’’اب بات چیت ختم ہے‘‘۔۔۔ جو  بائیڈن  نیتن یاہو سے ناراض کتنے دنوں سے فون پر بات نہیں کی؟ رپورٹ میں اہم انکشافات

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
’’اب بات چیت ختم ہے‘‘۔۔۔ جو  بائیڈن  نیتن یاہو سے ناراض کتنے دنوں سے فون پر بات نہیں کی؟ رپورٹ میں اہم انکشافات

’’اب بات چیت ختم ہے‘‘۔۔۔ جو  بائیڈن  نیتن یاہو سے ناراض ، کتنے دنوں سے …

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ جنگ پر امریکہ کے صدر جو  بائیڈن اسرائیلی وزیر اعظم  نیتن یاہو سے ناراض ہو گئے،   کئی دنوں  سے فون پر بات بھی نہیں ہوئی اس  حوالے  سے جو اہم اطلاعات  سامنے آ رہی ہیں  ان کے مطابق غزہ کی صورتحال کے حوالے سے امریکی حکومت کے مشورے اور درخواستیں مسترد کیے جانے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے مایوس ہو رہے ہیں، اسرائیلی کابینہ میں غزہ جنگ کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور کابینہ کے وزراء نے جنگ روکنے کیلئے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی ہے۔

“جنگ ” کے مطابق  100 دن قبل، اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے امریکی صدر نے اسرائیل کو اپنی مکمل اور بھرپور حمایت فراہم کی، عسکری اور سفارتی سطح پر مدد کی۔ اگرچہ عوامی سطح پر یہ حمایت اور مدد اب بھی جاری ہے لیکن پس پردہ صورتحال دیکھیں تو ایسے اشارے مل رہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

صورتحال سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صورتحال خراب ہے اور ہم پھنس چکے ہیں، صدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیں تو ہر موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر کو ٹھینگا دکھا دیا ہے۔  امریکی حکام نیتن یاہو کی حکومت میں شامل اتحادیوں سے رابطہ کرکے ان سے صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کیلئے التجا کر رہے ہیں لیکن ہر مرتبہ انہیں منہ پر تھپڑ پڑ رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بائیڈن نے 23 دسمبر کو ایک تلخ ماحول میں ہونے والی فون کال کے بعد گزشتہ 20 روز سے نیتن یاہو سے کوئی بات نہیں کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ فون کال ختم ہو رہی تھی اس وقت بائیڈن کے آخری الفاظ یہ تھے: ’’اب بات چیت ختم ہے۔‘‘ جنگ شروع ہونے سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً ہر 2 دن بعد بات چیت ہوا کرتی تھی۔ فون رکھنے سے قبل، نiتن یاہو نے بائیڈن کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ فلسطینیوں کے ٹیکس محصولات جاری کیے جائیں جو اسرائیل نے روک رکھے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان بات چیت کم ہونے کے معاملے کو زیادہ توجہ کا مرکز بننے نہیں دیا اور صحافیوں کی جانب سے سوال پوچھنے پر ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے کوئی خاص اشارہ یا تاثر نہیں ملتا۔ تاہم، کشیدگی اور پریشانی کے آثار ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ صورتحال بہت مایوس کن ہے۔دوسری جانب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اسرائیلی کابینہ میں اس جنگ کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ وزیر دفاع یوو گیلنٹ پر وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ جھگڑے کے بعد کابینہ کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ حماس کے خلاف جنگ کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔وزیر دفاع کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر جنرل گے مارکیزانو کو شرکت کی اجازت دی گئی لیکن وزیر دفاع نے صورتحال قبول کرنے سے انکار کر دیا اور نیتن یاہو اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر زاچی ہانیگبی کو غصے سے کہا کہ میرے کام میں مداخلت بند کرو، اس کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *