بلوچستان کودرپیش سیکیورٹیمعاشی ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل بیٹھ کر کام کرینگے وزیراعظم

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
بلوچستان کودرپیش سیکیورٹیمعاشی ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل بیٹھ کر کام کرینگے وزیراعظم
بلوچستان کودرپیش سیکیورٹیمعاشی ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل بیٹھ کر کام کرینگے وزیراعظم

(ویب ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے، بلوچستان کی ترقی اور قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ،صوبے کو درپیش سکیورٹی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا، افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے باعث ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے۔

کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے جو خوش آئند امر ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے تاہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ افواج پاکستان، پولیس، ایف سی، رینجرز، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری ہے اور بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو معاونت دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے تاہم حکومت اورافواج پاکستان کا عزم پختہ ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہاکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان دلجمعی اور پروفیشلزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح 6 مئی 2025ء کو بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مؤثر قیادت کی اور دشمن کو سبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھاجائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010ء میں این ایف سی ایوارڈ کے وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی تھے، این ایف سی پر ہمارے کئی نشستیں ہوئیں اور اس دور میں  نواز شریف ،آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور تمام وزرائے اعلیٰ کے باہمی تعاون سے صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک بڑا علاقہ ہے اور اس وقت وزیراعلیٰ بلوچستان کا مطالبہ جائزہ تھا اور زیادہ فاصلے کی وجہ سے وسائل زیادہ استعمال ہونے تھے اور اس سلسلے میں پنجاب نے اپنے حصے میں سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیئے جس پر انہیں دلی خوشی ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ 16 برس سے نافذ العمل ہے۔نئے این ایف سی ایوارڈز کیلئے کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بات بھائیوں اور خاندان کی ہو تو پھر حصوں پر نہیں بلکہ مل بیٹھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، اسی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ وفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ صوبوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ  کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے  ، کوئٹہ کراچی شاہراہ بہترین سڑک ہوگی جہاں ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہوگی، یہ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کی مثال ہے ۔ بلوچستان میں ایک ہی وقت میں پانچ دانش سکولز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں قلعہ سیف اللہ سے تربت تک غریب اور وسائل سے محروم گھرانوں کے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کریں گے اور مستقبل میں ملک کا نام روشن کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مل کر آگے بڑھانا ہے اور مشاورت  کے ذریعے تمام چیلنجز کا حل تلاش کیا جائے گا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ   نواز شریف نے ہمیشہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور دلچسپی لی ہے اور وفاق صوبے کے ساتھ مل کر ترقی وخوشحالی کے سفر کو آگے لے کر جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہوئی۔ سال 2022ء میں سیلاب سے بلوچستان میں تباہی ہوئی تو وفاقی حکومت نے ورلڈ بینک سے 400 ملین ڈالرز کے فنڈز حاصل کیے جو صوبے کی بحالی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *