بند کرو اسے بند کرو وسیم بادامی کے شو کے دوران کسی نے زبردستی احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
بند کرو اسے بند کرو وسیم بادامی کے شو کے دوران کسی نے زبردستی احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی
بند کرو اسے بند کرو وسیم بادامی کے شو کے دوران کسی نے زبردستی احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) براہ راست ٹی وی نشریات کے دوران نامعلوم شخص نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی۔ واقعہ اے آر وائی نیوز پر اینکر وسیم بادامی کے شو کی براہ راست نشریات کے دوران پیش آیا۔

احسن اقبال پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ وہ بذریعہ ویڈیو کال پروگرام میں شریک تھے۔ 11:16 بجے اچانک کوئی نامعلوم شخص آیا۔ احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے اس شخص کی آواز آئی ” بند کرو، بند کرو اسے۔” اسی کے ساتھ اس نے موبائل پر جھپٹنے کی کوشش کی لیکن احسن اقبال نے اچانک ہڑبڑاہٹ میں موبائل فون اٹھایا اور کال منقطع ہوگئی۔

اس اچانک واقعے سے وسیم بادامی بھی پریشان ہوگئے اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا احسن اقبال اپنے گھر سے پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ معاملے کا پتا کروائیں۔ اس کے بعد وہ وقفے پر چلے گئے۔ تقریباً سات منٹ کے وقفے کے بعد وسیم بادامی دوبارہ لائیو ہوئے لیکن انہوں نے احسن اقبال کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی۔

وقفے کے بعد احسن اقبال نے شو کو دوبارہ جوائن نہیں کیا اور مہمان بھی بدلے جا چکے تھے۔ اب پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی، صحافی اطہر کاظمی اور عامر الیاس رانا پروگرام کا حصہ بن چکے تھے۔

بعد ازاں 11:46 پر احسن اقبال نے پروگرام کو دوبارہ جوائن کرلیا۔ وسیم بادامی کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ “وہ ذرا کوئی۔۔۔۔ ہوگیا تھا لیکن اب سب ٹھیک ہے۔” (ذرا کوئی کے بعد کا لفظ ٹھیک طرح سے سنا نہیں جاسکا)وسیم بادامی نے کہا کہ وہ مزید تفصیل فی الحال نہیں پوچھتے۔ احسن اقبال 11:16 سے 11:46 تک کہاں رہے؟ 30 منٹوں میں  ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ ان کے ساتھ براہ راست پروگرام میں بد سلوکی کس نے کی؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *