بھارتی پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے، ہاتھوں میں سموک …
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی پارلیمنٹ میں سکیورٹی حصار کو توڑتے ہوئے دو افراد ارکان اسمبلی کے بنچوں تک پہنچ گئے ،جس سے اراکین چھپنے پر مجبور ہوگئے جبکہ پولیس افسران کی دوڑیں لگ گئیں ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق لوک سبھا کے اندر دو افراد ارکان اسمبلی کی بنچوں تک پہنچ گئے، نعرے بازی کی اور رنگین گیس پھینکی جس سے اسمبلی دھوئیں سے بھر گئی۔لاکھوں افراد نے پارلیمنٹ میں اجنبی افراد کے داخل ہونے کی براہ راست کوریج ٹی وی پر بھی دیکھی۔ پارلیمنٹ میں راہول گاندھی، مرکزی وزراء اور متعدد ارکان موجود تھے۔
ہنگامہ آرائی کرنے والے دونوں افراد مہمان گیلری سے چھلانگ لگا کر لوک سبھا چیمبر تک پہنچے جس کےبعد ارکان اسمبلی گھبرا گئے اور بنچزکے نیچے چھپنے کی کوشش کی۔
پارلیمنٹ میں گھسنے والوں نے زرد رنگ کی گیس چھوڑ دی جواسمبلی ہال میں پھیل گئی اور افراتفری مچ گئی۔ دہشتگردی کے خدشے کے پیش نظر کچھ ارکان اسمبلی بھاگ کھڑے ہوئے۔
پولیس نے اسمبلی ہال کے اندر سے دو افراد کو حراست میں لے لیا جب کہ دو کو پارلیمنٹ سے باہر گرفتار کیا گیا جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ واقعہ کے پیش نظراسپیکر کو اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔
اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اسپیکر اوم برلا نے مختصر رولنگ میں کہا کہ ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں بھوجن سماج پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دانش علی نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ایک حملہ آور کے پاس سے وزیٹر پاس برآمد ہوا جو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ سمہا کے دفتر سے جاری کیا گیا تھا۔
بھارتی پارلیمان کے اندر سے گرفتار ہونے والوں کی شناخت ساگر شرما اور منورنجن کے نام سے ہوئی جبکہ پارلیمنٹ کے باہر سے حراست میں لیے جانے والوں کے نام بھارتی میڈیا کے مطابق امول شندے اور نیلم دیوی ہیں۔
بھارتی میڈیا کا پولیس ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے منورنجن کا تعلق میسور سے ہے اور وہ سٹی کالج میں کمپیوٹر سائنسز کا طالبعلم ہے جبکہ نیلم دیوی کا تعلق ہریانہ سے ہے اور وہ سول سروس کے امتحانات کی تیاری کر رہی ہیں۔
نیلم کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بہن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف ہونے والے کسانوں کے احتجاج کا بھی حصہ تھیں لیکن وہ کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں۔









