بھارت میں ٹرک ڈرائیوروں کے احتجاج نے ہزاروں افراد کو مشکل میں ڈال دیا
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کئی بھارتی ریاستوں میں پٹرول پمپس پر پچھلے دو دنوں سے لمبی قطاریں لگ رہی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ مودی حکومت سڑک پر ’ہِٹ اینڈ رن‘ یعنی کسی کو مار کر بھاگنے کے خلاف سخت سزائیں نافذ کرنے جا رہی ہے، جس کے خلاف ٹرک ڈرائیوروں نے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ لوگوں کو اندیشہ ہے جلد ہی نافذ ہونے والے ضابطہ فوجداری کے خلاف ٹرک ڈرائیوروں کا احتجاج سپلائی کو متاثر کرے گا۔ اگر احتجاج جاری رہتا ہے تو اس سے دیگر ضروری سامان کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اب سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ آخرٹرک والے احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نئے قانون کے تحت ہٹ اینڈ رن کیسز میں 10 سال قید اور 7 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ٹرک چلانے والے، ٹیکسی ڈرائیور اور دیگر تجارتی گاڑیاں چلانے والے پوچھ رہے ہیں کہ حادثے کی صورت میں وہ اتنا بڑا جرمانہ کیسے ادا کریں گے۔ آل پنجاب ٹرک آپریٹرز یونین کے صدر ہیپی سدھو نے نئے قانون کو ’کالا قانون‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پنجاب میں ٹرک چلانے والوں کو تباہ کر دے گا۔









