بھارت میں ہندو دوست کے ساتھ ہوٹل میں موجود مسلمان لڑکی سے مبینہ طورپر …
کرناٹکا (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع ہیویری کے ایک ہوٹل میں مبینہ طور پر اپنے ہندو دوست کے ساتھ موجود مسلمان لڑکی کو 7 افراد نے تشدد کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، یہ واقعہ 7 جنوری کو پیس آیا تھا لیکن اس وقت سامنے آیا جب متاثرین نے پولیس کو اپنی روداد بیان کی اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔
انڈیا ٹوڈے ہوٹل کے اندر مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون نے بتایا کہ ملزمان نے انھیں کمرے سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور دریا کے قریب لے کر گئے جہاں انہیں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا، جس کے بعد کار میں واپس شہر لائے اور اس دوران گاڑی کے ڈرائیور نے بھی ان کا ریپ کیا۔
خاتون نے بتایا کہ ملزمان نے شہر میں انھیں سڑک پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا، ان میں سے ایک ملزم کو آفتاب کے نام سے پکارا جاتا تھا۔متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ اگر ملزمان کو میرے سامنے لایا گیا تو ان کو پہچان سکتی ہوں۔
ضلع ہویری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ انشو کمار نے بتایا کہ خاتون کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد مبینہ گینگ ریپ کا بیان کوڈ آف کریمنل پروسیجر کے سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا، متاثرہ نے الزام عائد کیا کہ 7 افراد نے ان کا گینگ ریپ کیا، جن میں سے 3 افراد پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں، دیگر 3 ہسپتال میں موجود ہیں اور ہسپتال سے فارغ ہوتے ہی انھیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا ۔









