پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ مجھے اپنی تکلیف کا کوئی دکھ نہیں مگر آپ کی صدا مجھ سے نہیں دیکھی جاتی۔ اپنے ساتھ ظلم کو برداشت کرلوں گا اور کررہا ہوں، لیکن جو ظلم عوام کیساتھ ہوا اسے برداشت نہیں کرسکتا۔
سیالکوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا سیالکوٹ با وفا لوگوں کا شہر ہے، سیالکوٹ کا نام پورے برصغیر میں گونجتا ہے، میرے خواجہ آصف سے تعلق کو55سال ہوگئے، خواجہ آصف میرے ساتھ کالج میں پڑھتے تھے۔
قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ خواجہ آصف اور میں نے ایک ساتھ گریجویشن کیا، خواجہ آصف کے والد مہینے میں ایک بار مجھ سے ضرور ملتے تھے، سیالکوٹ کا سب سے بڑا باوفا شخص خواجہ آصف ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ سیالکوٹ سے مجھے بہت پیار ہے، موٹر وے ہم نے بنائی لیکن اس کے افتتاح کا موقع نہیں مل سکا، حکومت میں آئے تو لاہور سے سیالکوٹ ٹرین شروع کریں گے، نوجوانوں کو پاؤں پر کھڑا کریں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ نہ بجلی نہ گیس، روٹی نہ پٹرول، سب چیزیں عوام کے بس سے باہر ہوگئیں، 2017 بہتر تھا یا 2023-24، جنہوں نے ملک کے ساتھ ظلم کیا ان سے پوچھا ایسا کیوں کیا، یہ ظلم مجھے پر نہیں قوم پر کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنے ساتھ ظلم کو برداشت کرلوں گا اور کررہا ہوں، لیکن جو ظلم عوام کیساتھ ہوا اسے برداشت نہیں کرسکتا انشااللہ خوشحالی جو ہم سے دور ہوگئی ہے اسکو واپس لوں گا آپکا ساتھ چاہیے۔
اس سے قبل اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی مخالفین کہتے ہیں کہ ن لیگ یا نواز شریف جلسے نہیں کر رہے، کیا ہم آج سیالکوٹ کے کسی کمرے میں جلسہ کر رہے ہیں؟
شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں گے، بھارت نے جب 5 ایٹمی دھماکے کیے تو نواز شریف نے 6 ایٹمی دھماکے کیے، نواز شریف نے امریکی پیشکش ٹھکرا کر ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو سیاسی مخالفین کا جلوس نکل جائے گا، آج پاکستان کا نوجوان نواز شریف کی جانب دیکھ رہا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ برسرِ اقتدار آکر ترقی کا پہیا دوبارہ چلائیں گے، ایک سیاسی مہربان جلسوں میں کبھی کسان کارڈ کبھی مزدورکارڈ دکھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج عوامی سمندر گواہی دے رہا ہے کہ 8 فروری کا سورج ن لیگ کا ہوگا، آج سیالکوٹ والوں نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے دیا، آپ کے ووٹ سے نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوں گے۔









