جے یو آئی کا حکومت کا حصہ بننے سے انکار،اپوزیشن میں بیٹھنے اور تحریک …
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمیعت علما اسلام نے 8 فروری کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئےاتحادی حکومت کا حصہ بننے سے انکارکردیا۔
مولانا فضل الرحمان نےاپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کردیا۔ کہتے ہیں 8 فروری کے انتخابات کو مسترد کرتے ہیں،اس انتخابات میں دھاندلی کے ریکارڈ بنے، انتخابی عمل یرغمال بنا رہا، الیکشن کو شفاف قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے بیان کو مسترد کرتے ہیں، اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔ جے یو آئی کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کیا گیا،اسمبلیوں میں تحفظات کےساتھ شامل ہونگے،نواز شریف کو دعوت دیتے ہیں ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں،ہم ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے تابعدار نہیں ہیں،اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئےتحریک چلائیں گے۔اس وقت ہم کسی جماعت کے اتحادی نہیں ہیں، ہم پر جو گزری ہے، ہم علاقوں میں نہیں جا سکتے تھے، ہماری کوئی بات نہیں گئی، ہم بھی نہیں سنیں گے، میں نے مجلس عاملہ کے فیصلے سنائے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اس انتخابات میں دھاندلی کے ریکارڈ بنے، انتخابی عمل یرغمال بنا رہا، الیکشن کو شفاف قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے بیان کو مسترد کرتے ہیں، اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔مرکزی مجلس عاملہ نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے، انتخابی دھاندلی نے 2018 کی انتخابی دھاندلی کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا ہے۔پارلیمنٹ نے اپنی اہمیت کھو دی ہے، پارلیمنٹ میں شرکت احتجاج کے ساتھ ہوگی، جے یو آئی پارلیمانی کردار ادا کرے گی لیکن اسمبلیوں میں شرکت تحفظات کے ساتھ ہوگی۔جے یو آئی کے خلاف سازش عالمی اسلام دشمن قوتوں نے کی۔









