
ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا حکومت نے ضم اضلاع کے عوام کو بجلی کے بحران سے ریلیف دینے کے لیے مفت یا آسان اقساط پر سولر سسٹم فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار مستحق گھرانوں کو 2 کلو واٹ کے سولر سسٹم فراہم کیے جائیں گے، جن میں انورٹر اور دیگر ضروری آلات شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق فی سولر سسٹم کی لاگت 2 لاکھ 55 ہزار سے 3 لاکھ روپے کے درمیان متوقع ہے، جبکہ منصوبے پر مجموعی طور پر 13 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جس کی مکمل مالی ذمہ داری حکومت برداشت کرے گی۔
یہ سولر منصوبہ ضم اضلاع باجوڑ، خیبر، کرم، اورکزئی، مہمند، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں نافذ کیا جائے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد بینک آف خیبر کے فنانشل ماڈل کے تحت کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق سولر سسٹمز کی فراہمی کے لیے دو طریقۂ کار رکھے گئے ہیں۔ قابلِ واپسی آپشن کے تحت صارفین 36 ماہ میں تقریباً 8 ہزار 300 روپے ماہانہ اقساط ادا کریں گے، جبکہ ناقابلِ واپسی آپشن میں مستحق گھرانوں سے کسی قسم کی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔
اسکیم کے تحت مستحق افراد کا انتخاب خیبر پختونخوا حکومت کرے گی، وینڈرز کا انتخاب بینک آف خیبر کرے گا جبکہ تکنیکی معاونت پیڈو فراہم کرے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ضم اضلاع میں بجلی کی دیرینہ قلت کا مستقل حل فراہم کرنا اور متبادل توانائی کے ذریعے عوام کو ریلیف دینا ہے۔









