سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت جاری

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت جاری

سپریم کورٹ میں سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی 7 رکنی لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عزیر بھنڈاری کہاں ہیں؟ چیف جسٹس کے استفسار پر پر عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آگئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے 3 عدالتی معاونین مقرر کیے تھے، ریما عمر نے اپنا تحریری جواب بھجوایا ہے، گزشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر، عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔

دریں اثنا سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا روسٹرم پر آگئے، جنہوں نے گزشتہ سماعت پر تاحیات نااہلی کے حق میں اپنی رائے دی تھی۔

خرم رضا نے استفسار کیا کہ یہ اپیلیں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں؟ کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کی گئیں؟ اِس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں۔

خیال رہے کہ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر رکھے ہیں، 2 جنوری کو ہونے والی سماعت پر اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کے وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت کو اس معاملے پر معاونین کی خدمات درکار ہوگی، ہم میڈیا یا سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں کر سکتے، موجودہ کیس سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ عدالت کسی مخصوص جماعت کی حمایت کر رہی ہے، ایک آئینی مسئلہ ہے جس کو ایک ہی بار حل کرنے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ کوشش ہوگی کہ 4 جنوری کو کیس کی سماعت مکمل کریں، مشاورت کے بعد عدالتی معاون بھی مقرر کر سکتے ہیں، بعد ازاں سماعت 4 جنوری (آج) تک ملتوی کردی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 11 دسمبر کو میر بادشاہ خان قیصرانی کی نااہلی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ نے تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجر بینچ کے سامنے مقرر کرنے کے لیے ججز کمیٹی کو بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ کیس کی اگلی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قانون دانوں کا کہنا ہے کہ نااہلی 62 ون ایف کی بجائے الیکشن ایکٹ کے تحت قرار دی گئی تو نواز شریف اور جہانگیر ترین الیکشن لڑنے کے اہل ہوجائیں گے۔

قانون دانوں کے مطابق آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت نہیں لکھی لیکن ماضی میں سپریم کورٹ نے تشریح کرکے اسے تاحیات نااہلی سے تعبیر کیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *