
(ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح جاری کردی ۔
فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فوجداری معاملات میں ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ نےایس ایچ او کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس کو درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او لکھنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے،نوآبادیاتی سوچ کو مسترد کیا جاتا ہے،ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں، اب ایس ایچ او کو صرف جناب SHO لکھا جائے گا، غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے۔
جاری فیصلے کے مطابق ایف آئی آر درج کروانے والا شہری اطلاع دہندہ ہوگا، شکایت کنندہ نہیں،شکایت کنندہ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہوگی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ پولیس کارروائی میں “فریادی کا لفظ بھی ممنوع قرار دیا جاتا ہے، لفظ فریادی رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابلِ قبول، پولیس افسران کو سخت وارننگ دی جاتی ہے، ایف آئی آر میں تاخیر پر ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے،ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
Source link









