
ویب ڈیسک:آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر دہشت گردانہ حملے کے مشتبہ حملہ آور ساجد اکرم کے بھارتی شہر حیدرآباد سے تعلقات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ساجد نے آخری بار 2022 میں بھارت کا دورہ کیا تھا جو ان کا چھٹا اور آخری دورہ بھی تھا۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 50 سالہ ساجد اکرم کی خاندانی جڑیں حیدرآباد کے ٹولی چوکی علاقے میں ہیں، ساجد نے بی کام کی تعلیم حاصل کی تھی اور اس وقت بھی اس کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ موجود ہے۔ ان کے والد 2009 میں انتقال کرچکے ہیں جبکہ والدہ اور بھائی اب بھی ٹولی چوکی میں مقیم ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جائیداد کے معاملات پر ساجد اور اس کے بھائی کے درمیان اختلافات تھے اور 2022 کے دورے کے دوران وہ حیدرآباد میں مستقل رہائش کے امکانات کا جائزہ لینے آیا تھا۔
مزید تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ساجد نے حیدرآباد کے انور العلوم کالج سے گریجویشن مکمل کی تھی۔ بعد ازاں وہ بیرونِ ملک منتقل ہو گیا اور وقفے وقفے سے بھارت آتا رہا جس میں تلنگانہ پولیس کے مطابق 2022 کا دورہ آخری رہا۔
حملے کے بعد ساجد کے بھائی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کا ساجد سے کوئی رابطہ نہیں رہا اور انہیں اس کے کسی بھی انتہا پسندانہ نظریات کا علم نہیں تھا۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے ساجد خاندان سے کٹ چکا تھا۔
یاد رہے کہ 14 دسمبر 2025 کو سڈنی کے بونڈی بیچ پر یہودی تہوار ہنوکا کا انعقاد کیا گیا تھا جب یہ حملہ ہوا، عوامی مقام پر ہونے والے اس حملے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ عالمی سطح پر خوف و ہراس پھیلا دیا، مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے تھے۔









