پنجاب میں گوجرنوالہ، چکوال اور صادق آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں جھگڑے کے دوران 10 افراد زخمی ہوئے جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں جھگڑے کے دوران دو افراد جبکہ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بھی جھگڑے کے دوران 3 افراد زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ ملک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند ہیں جس کے باعث امیدواروں اور ووٹرز کو مشکلات کا سامنا رہا۔
نتائج آنے کا سلسلہ جاری
ملک میں عام انتخابات میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ملک میں پہلا غیرحتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 78 گوجرانوالہ 2 کے 319 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے خرم دستگير خان 611 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد مبین عارف 597 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 ملتان 1 کے 275 پولنگ اسٹیشنز میں سے 2 کے نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی 230 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔
پاکستان مسلم ليگ (ن) کے احمد حسین ڈیہر 164 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ این اے 150 ملتان 3 کے 341 پولنگ اسٹیشنز میں سے ایک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے تحت تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار مخدوم زین حسین قریشی 291 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔ ن لیگ کے جاوید اختر 263 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ این اے 151 ملتان 4 کے 281 پولنگ اسٹیشنز میں سے 2 کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن ليگ کے عبدالغفار 341 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار مہر بانو قریشی 290 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 کراچی سینٹرل 4 کے 307 پولنگ اسٹیشنز میں سے ایک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کےفرحان چشتی 450 ووٹ لےکرپہلے اورجماعت اسلامی پاکستان کےحافظ نعیم الرحمان227 ووٹ لیکردوسرے نمبرپر ہیں۔
مختلف شہروں میں جھگڑے اور فائرنگ سے متعدد افراد زخمی
پنجاب میں گوجرنوالہ، چکوال اور صادق آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں جھگڑے کے دوران 10 افراد زخمی ہوئے جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں جھگڑے کے دوران دو افراد جبکہ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بھی جھگڑے کے دوران 3 افراد زخمی ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا ہے کہ جب محسوس ہوگا سکیورٹی کا مسئلہ نہیں تو انٹرنیٹ کھول دیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اپنا نظام ہے، انٹرنیٹ سے الیکشن کمیشن کا کوئی تعلق نہیں، الیکشن کمیشن انٹرنیٹ بندش کا ذمہ دار نہیں ہے، ہمارا اپنا سسٹم کام کر رہا ہے، ہم حکومت سے رابطے میں ہیں، الیکشن کمیشن بہت مضبوط ہے، انٹرنیٹ کا معاملہ ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے۔ مکمل خبر پڑھیں۔۔
نواز شریف، زرداری اور بلاول نے کہاں ووٹ کاسٹ کیے؟
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 128 ماڈل ٹاؤن میں ووٹ کاسٹ کیا، نواز شریف کے ہمراہ مریم نواز بھی تھیں۔
آصف علی زرداری نے نوابشاہ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 207 میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوڈیرو میں این اے 194 میں ووٹ کاسٹ کیا۔
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین نے لودھراں کے بنیادی مرکز صت 12 ایم پی آر میں ووٹ کاسٹ کیا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چار انتخابی حلقوں میں امیدواروں کی اموات کی وجہ سے پولنگ ملتوی کی گئی ہے۔
موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل
پولنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی مختلف شہروں میں مختلف شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی گئی۔
ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، امن و امان قائم رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
بلاول بھٹو کا موبائل سروس بحال کرنے کا مطالبہ
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملک بھر میں موبائل فون سروس کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کہا ہے موبائل فون بندش پر الیکشن کمیشن اور عدالت سے رجوع کریں۔
صورتحال قابو میں رہی تو سروس بحال ہو جائے گی: احمد شاہ
نگران وزیر اطلاعات احمد شاہ نے کہا ہےکہ یقیناً کوئی نہ کوئی تھریٹس ضرور ہوں گی اس لیے موبائل سروس بند کی گئی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احمد شاہ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی واقعات کے باعث موبائل سروس بند کی گئی، دہشتگردی کے مزید واقعات روکنے کیلئے موبائل سروس بند کی گئی، موبائل سروس کی بندش وفاقی حکومت کے اختیار میں ہے، دہشتگردی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، کراچی میں ہم بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں، صورتحال قابو میں رہتی ہے تو سروس بحال ہو جائے گی۔
26 کروڑ بیلٹ پیپرز
عام انتخابات کیلئے خصوصی سکیورٹی فیچرز کے حامل 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 عام انتخابات کیلئے 22 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے اور اس پر 800 ٹن اسپیشل سکیورٹی کاغذ استعمال ہوا تھا جبکہ 2024 کے عام انتخابات کیلئے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جس پر 2170 ٹن کاغذ استعمال ہوا ہے۔
90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر میں عوام کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز اور 2 لاکھ 66 ہزار 398 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔
ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل
ملک بھر میں عام انتخابات کے دوران جاری پولنگ کیلئے 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ الیکشن کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، ہر حلقے کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے جاری کیا جائے گا۔
12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 سے زائد ووٹرز
ملک بھر میں آج 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ووٹرز ووٹ کا حق استعمال کرسکیں گے جن میں 6 کروڑ 92 لاکھ 63 ہزار 704 مرد اور 5 کروڑ 93 لاکھ 22 ہزار 56 خواتین ووٹرز ووٹ دینے کی اہل ہیں۔ مجموعی طور پر رجسٹرڈ ووٹرز میں تقریباً 54 فیصد مرد اور 46 فیصد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 25 سال تک کی عمر کے 2 کروڑ 35 لاکھ 18 ہزار 371 نئے ووٹرز رجسٹر ہوئے ہیں، نئے رجسٹرڈ ووٹرز میں خواتین ووٹرز کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے ۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 7 کروڑ 32 لاکھ 7 ہزار 896 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 نشستوں پر 2 کروڑ 69 لاکھ 94 ہزار 769 ووٹرز پسندیدہ امیدواروں کا چناؤ کریں گے۔
خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 نشستوں پر صوبے کے 2 کروڑ 19 لاکھ 28 ہزار 119 رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے۔
بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر 53 لاکھ 71 ہزار 947 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر 10 لاکھ 83 ہزار 29 ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
نتائج کی ترسیل و تدوین کیلئے ای ایم ایس استعمال ہوگا
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے نتائج کی ترسیل و تدوین کیلئے الیکشن منیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) استعمال کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن ٹیکنالوجی خضر عزیز کا کہنا تھا کہ نتائج کی ترسیل کیلئے پرائیویٹ نیٹ ورک استعمال کیا جا رہا ہے، اس مرتبہ آر ٹی ایس استعمال نہیں ہو رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم کو اطمینان دلاتے ہیں کہ الیکشن منیجمنٹ سسٹم ایک اسپیشل سافٹ ویئر ہے، اور یہ سسٹم 859 ریٹرننگ افسران کے دفتر میں دیا ہے، آر او دفتر میں 4 ڈیٹا انٹری آپریٹر، 4 لیپ ٹاپ اور آئی ٹی ایکوئپمنٹ دیے گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ٹی نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسران کے موبائل میں بھی ای ایم ایس انسٹال کیا گیا ہے، پریزائیڈنگ افسران اپنے موبائل پر فارم 45 کی تصویر لے کر ریٹرننگ افسر کو بھیجیں گے، اگر سگنل نہیں آ رہے ہوئے تو جب سگنل آئیں گے تو فارم 45 خودبخود آر او کے پاس پہنچ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پریزائیڈنگ افسر کو سیکشن 95 کے تحت آر او کے پاس جانا ہے، پریزائیڈنگ افسر اپنے موبائل پر فارم 45 ریٹرننگ افسر کو دکھا سکتا ہے، فارم 45 پریزائیڈنگ افسر کے موبائل میں خود کار طور پر لاک ہوجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آر او فارم 47 بناتے وقت تسلی کرلے گا کہ پریزائیڈنگ افسر کے موبائل میں فارم 45 لاک ہے۔
سکیورٹی کے سخت اقدامات
الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 16 ہزار 766 پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس جبکہ 29 ہزار 985 کو حساس قرار دیا گیا ہے، انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر پاک فوج تعینات کی گئی ہے۔
پولنگ اسٹیشنوں پر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پریزائیڈنگ افسران کو بھی مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دیے گئے ہیں۔
عام انتخابات کے موقع پر پورے ملک میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں، مجموعی طور پر 5 لاکھ سکیورٹی اہلکار عام انتخابات میں ڈیوٹی پرتعینات ہوں گے۔
سکیورٹی کیلئے پولیس پہلے درجے پر، پیرا ملٹری فورسز دوسرے درجے، آخری اور تیسرے درجے میں پاک فوج بطور کوئیک رسپانس فورس تعینات ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی سامان کی پولنگ اسٹیشن تک ترسیل، گنتی اور اس کی ریٹرننگ افسران کے دفاتر تک واپسی کیلئے سکیورٹی کی ذمہ داری افواج پاکستان کی ہوگی۔
سیاسی جماعتوں کیلئے خصوصی ہدایات
الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کیلئے خصوصی ہدایات کے تحت پولنگ اسٹیشن کے اردگرد 400 میٹر تک کسی بھی قسم کی مہم کی اجازت نہیں ہوگی۔
نیز اسی حدود میں ووٹرز کو قائل کرنے پر اور ان کو ووٹ ڈالنے اور نہ ڈالنے کی التجا کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق سیاسی جماعتوں کے کیمپ دیہی آبادیوں میں پولنگ اسٹیشن سے 400 میٹر اور گنجان آبادیوں والے شہری علاقوں میں 100 میٹر کے فاصلے پر ہوں گے۔









