پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ عدت کیس مجھے ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا اور اس میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ مجھے ذلیل کیا جائے، میں آج بھی کہتا ہوں نہ ڈیل کی اور نہ کروں گا مرجاؤں گا لیکن کبھی ڈیل نہیں کروں گا۔
غیر شرعی نکاح کیس میں سزا ملنے کے بعد صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے توشہ خانہ کیس میں جو سزا دی آج تک کسی کو نہ دی گئی جب کہ عدت کیس مجھے ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا اور اس میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ مجھے ذلیل کیا جائے۔
عمران خان نے کہا کہ مجھ پر 200 کیسز بنائے گئے آج تک کسی کے خلاف اتنے کیسز نہیں بنائے گئے، میں آج بھی کہتا ہوں نہ ڈیل کی اور نہ کروں گا میں مرجاؤں گا لیکن کبھی ڈیل نہیں کروں گا۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل کیا، جے آئی ٹی بنی لیکن سب کیسز ختم کردیے گئے، شہباز شریف کے خلاف ایف آئی اے کا مضبوط کیس تھا ختم کردیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک پر چار سو ڈورن حملے ہوئے ان میں سے کوئی بولا ہی نہیں، اب باہر سے غلام آگیا ہے وہ نوکری کرے گا ان کی۔
واضح رہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت میں نکاح سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
اڈیالہ جیل میں عدت میں نکاح سے متعلق کیس سننے والے سینئر سول جج قدرت اللہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید کی سزا سنائی، جج نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں کیس کا فیصلہ سنایا۔
گزشتہ روز تقریباً 14 گھنٹے کی طویل سماعت کے بعد جج قدرت اللہ نے عدت میں نکاح سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ مقدمےکےدرخواست گزار بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عمران خان اور بشری بی بی پر عدت کے دوران نکاح کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت میں نکاح سے متعلق کیس میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا، ان کے ملازم لطیف، مفتی سعید اور نکاح کے گواہ عون چوہدری سمیت دیگر گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔
گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 342 کا بیان ریکارڈ کرایا تھا جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے گواہان خاور مانیکا، مفتی سعید، عون چوہدری اور ملازم محمدلطیف پرجرح کی تھی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 14، 14 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ سائفر کیس میں بھی عمران خان کو 10 برس کی قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔









