عسکری قیادت کو بم دھماکے سے قتل کرنے کی دھمکی برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ بےنقاب

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
عسکری قیادت کو بم دھماکے سے قتل کرنے کی دھمکی برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ بےنقاب
عسکری قیادت کو بم دھماکے سے قتل کرنے کی دھمکی برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ بےنقاب



لندن : برطانیہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے شدید تشویش سامنے آئی ہے، جہاں ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف پرتشدد دھمکیوں کا اظہار کیا گیا ہے۔

23 دسمبر 2025 کو پی ٹی آئی برطانیہ کے ایک آفیشل “ایکس” (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ویڈیو میں مظاہرین کو پاکستان کے فیلڈ مارشل کے خلاف بم دھماکے کے ذریعے قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں ایک خاتون نے انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی جس نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔

ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کی دھمکیاں نہ آزادیٔ اظہار کے دائرے میں آتی ہیں، نہ ہی سیاسی اختلاف کہا جا سکتا ہے بلکہ یہ براہ راست تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے زمرے میں آتی ہیں۔ برطانوی انسدادِ دہشت گردی قوانین کے مطابق ایسی دھمکیاں سنگین جرم سمجھی جاتی ہیں، اور برطانیہ میں اس پر فوری قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کو پی ٹی آئی سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور حامیوں نے مزید پھیلایا جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا، برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز تقاریر کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔

عالمی قوانین کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 تمام ریاستوں کو دہشت گردی، تشدد پر اکسانے اور اس کی معاونت روکنے کی پابند بناتی ہے، قانونی ماہرین کے مطابق اس واقعے کا تعلق انہی ذمہ داریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکومت کے سامنے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو میں ملوث افراد کی شناخت، تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پاکستان نے اس معاملے پر برطانوی حکومت سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو میں ملوث افراد کی شناخت کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ برطانیہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور انسداد دہشت گردی کے ذمہ داریوں پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔





Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *