بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس میں جمعہ کی شب طویل سماعت کے بعد محفوظ کیا جانے والا فیصلہ کچھ دیر میں سنایا جائے گا۔ کیس میں بانی پی ٹی آئی اوربشری بی بی نے 342 کا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو سوالنامہ دیا گیا تھا۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر سینیئرسول جج قدرت اللہ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج (ہفتہ 3 فروری) دوپہرایک بجے سینئرسول جج قدرت اللہ اڈیالہ جیل میں سنائیں گے۔
کیس میں بانی پی ٹی آئی اوربشری بی بی نے 342 کا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو سوالنامہ دیا گیا تھا۔
سابق خاتون اول نےاپنے 342 کے بیان میں عدالت سے کہا کہ میری عدت یکم جنوری 2018 تک ہوچکی تھی۔ خاور مانیکا نے اپریل 2017 میں زبانی طلاق دی تھی،انہوں نے جو طلاق نومبر2017 میں پیش کی وہ جعلی ہے۔
بشریٰ بی بی کے بیان کے مطابق، یکم جنوری 2018 سے قبل عمران خان سے فیملی کی موجودگی میں ملاقات کی، شادی کا باضابطہ اعلان فروری 2018 میں کیا گیا تھا اور وہ نکاح نہیں ، دعائیہ تقریب کی گئی۔غیر شرعی تعلقات سے متعلق الزامات جھوٹے ہیں۔
بشریٰ بی بی نے کہا کہ خاورمانیکا 14نومبر 2023 تک زیرحراست میں رہا جسکے بعد شکایت فائل کی جو شکایت بدنیتی پر مبنی ہے۔
سماعت کے دوران عون چوہدری، خاورمانیکا، مفتی سعید اور ملازم حنیف پر جرح کی گئی۔
نکاح کیس کی سماعت کا آغازصبح ساڑھے 9 بجے ہوا تھا جو 14گھنٹے یعنی رات 11 بجے تک جاری رہی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے دونوں کو کسی بھی عوامی عہدے کیلئے 10 سال کیلئے ناہل قرار دیا تھا، دونوں ملزمان پر کل ایک ارب 57 کروڑ40 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
اس سے ایک دن پہلے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی









