وزارت خزانہ نے معاشی اعشاریوں پر ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ ملکی معیشت کی بتدریج بحالی کا عمل جاری ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق نومبر میں اسٹاک ایکسچنج نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اس میں کہا گیا کہ زرعی شعبے کی کارکردگی مثبت دکھائی دے رہی ہے، ربیع سیزن کے پیداواری اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ پنجاب میں گندم کے پیداواری رقبے میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی سے نومبر تک غیرملکی سرمایہ کاری میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا۔ بیرونی سرمایہ 69 کروڑ 48 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
جولائی سے اکتوبر تک اخراجات میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی سے اکتوبر تک جاری اخراجات میں 44 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اسی دوران سود ادائیگیوں میں 63 فیصد اضافہ ہوا۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق دسمبر میں مہنگائی 28.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ جنوری 2024 میں مہنگائی 25 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگست 2023 سے برآمدات ماہانہ بنیادوں پر 3 ارب ڈالرز سے زائد رہیں۔ جولائی سے نومبر تک برآمدات میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔
جولائی سے نومبر تک درآمدات 16 فیصد کم ہوئیں۔ جولائی سے نومبر تک جاری کھاتوں کا خسارہ 64.5 فیصد کم ہوا۔ جولائی سے اکتوبر تک بجٹ خسارے میں 31.9 فیصد کمی ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی سے نومبر تک ترسیلات زر، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ، ترقیاتی اخراجات میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ نومبر کے مہینے میں ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 3.6 فیصد اضافہ ہوا۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات، گیس، بجلی قیمتوں میں اضافے سے گزشتہ ماہ مہنگائی بڑھی۔
رپورٹ کے مطابق رواں سیزن گندم کی کاشت تقریباً 90 لاکھ کے ہدف کی بجائے 87 لاکھ 33 ہزار ہیکٹر پر ہوئی۔ جولائی سے نومبر تک برآمدات، ایف بی آر ریونیو، زرعی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔









