
ویب ڈیسک: ایلون مسک کی ٹیسلا کی مارکیٹ میں سب سے بڑی حریف کمپنی بی وائی ڈی نے گزشتہ سال پہلی مرتبہ 100 ارب ڈالرز سے زائد کی ریکارڈ آمدن حاصل کرلی ہے۔ جس کے بعد وہ آمدن میں ٹیسلا سے آگے نکل گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابقBYD نے 2024 کے لیے 777 بلین یوآن ($107 بلین) کی آمدنی ریکارڈ کی، جو کہ الیکٹرک کاروں کے لیے عالمی مارکیٹ میں تیز مسابقت کے درمیان سالانہ فروخت میں ایلون مسک کی ٹیسلا سے آگے ہے۔
بی وائی ڈی نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ اس نے گزشتہ سال 4.27 ملین کاروں کی ڈیلیوری دی جو کہ سالانہ فروخت میں 29 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں مکمل الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ٹیسلا نے گزشتہ سال 97.7 بلین ڈالر کی آمدن حاصل کی اور 1.79 ملین گاڑیاں فروخت کیں۔ ٹیسلا کی سالانہ ترسیل میں 1.1 فیصد کمی واقع ہوئی۔
بی وائی ڈی کے سی ای او نے وانگ چوانفو نے بھی کمپنی کی ریکارڈ ترقی کا دعویٰ کیا ہے۔ چینی کمپنی ریکارڈ سیل کے بعد عالمی مارکیٹ کے منظرنامے پر سب سے بڑی کمپنی بن کر ابھری ہے۔
بی وائی ڈی کا مارکیٹ میں ٹیسلا کو چیلنج:
بی وائی ڈی نے ایک عرصے تک مارکیٹ میں غالب رہنے والی کمپنی ٹیسلا کو چیلنج کیا ہے۔ ؎
یہ دونوں کمپنیاں الیکٹرک کاروں کی تیاری اور فروخت میں نمبر ون کی دوڑ میں تھیں۔ تاہم سال 2023 کے اختتام پر بی وائی ڈی نے ٹیسلا کو مات دی اور گزشتہ سال ٹیسلا کے مقابلے میں 1 لاکھ سے زائد کاریں فروخت کرکے سال کا اختتام کردیا۔
بی وائی ڈی نے تیزرفتارچارجنگ سسٹم متعارف کروادیا:
اس سے قبل گزشتہ ہفتے BYD نے ایک انتہائی تیز رفتار چارجنگ سسٹم کی نقاب کشائی کی جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ گاڑی صرف پانچ منٹ اس اسٹیشن پر چارج ہوکر 250 میل تک رینج بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹیسلا کے سپرچارجرز گاڑی کی رینج کو 200 میل تک بڑھانے کیلئے 15 منٹ کا وقت لیتے ہیں۔
بی وائی ڈی کی “گاڈ آئی” بمقابلہ ٹیسلا کی “فل سیلف ڈرائیونگ”
اسی طرح بی وائی ڈی نے گزشتہ ماہ اپنے زیادہ تر ماڈلز کیلئے ایک جدید ڈرائیور امدادی نظام متعارف کروایا ہے اور اس کیلئے گاڑی مالکان کو کوئی اضافی قیمت بھی ادا نہیں کرنا ہوگی۔ کمپنی کے اس فیصلے نے ٹیسلا سمیت مارکیٹ میں دیگر ای وی کمپنیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
دوسری جانب ٹیسلا نے اپنی گاڑیوں میں “فل سیلف ڈرائیونگ”FSD فیچر متعارف کروارکھا ہے۔ جس کی ماہانہ فیس 99 ڈالر یا لائف ٹائم فیس 8 ہزار ڈالر ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ “گاڈ آئی” کا مقابلہ کرنے کیلئے اب ٹیسلا کو چین میں اپنی FSD کی قیمت کم کرنا ہوگی۔
Source link








