
ویب ڈیسک: سینیئر صحافی ابصار عالم نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’ امریکا میں ایک قرارداد پیش ہوئی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت پر ویزوں کی پابندی لگا دی جائے، کیونکہ انہوں نے عمران خان سمیت بہت سے لوگوں کو سیاسی طور پر نظر بند کیا ہوا ہے، کیا یہ سنجیدہ معاملہ ہے؟
نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ یہ سنجیدہ ایشو پی ٹی آئی کے لئے ہے، یہ اُن کی لابنگ کرتے ہیں اور اُس لابنگ کے نتیجے میں پہلے خطوط لکھے گئے ہیں ، پھر وہاں پر پروپیگنڈا ہوتا رہا اور اب یہ بل پیش کیا گیا۔
راںا ثنا اللہ نے کہا کہ آپ پاکستانی قوم کا مزاج سمجھتے ہیں اس مزاج کو امریکا کے خلاف عمران خان نے ’ایکسپولاڈ‘ کرکے فائدہ اٹھا چکے ہیں جب انہوں نے کہا تھا ’ ہم کوئی غلام ہیں ‘ کہتے تھے امریکا نے میری حکومت کو گرایا ہے۔
اگر عمران خان اس قسم کا کوئی آرڈر یا قانون پاس کرواتے ہیں جو آرمی چیف کے خلاف ہو تو آرمی چیف، ادارے یا پاکستان کی حکومت کو نفرت کا سامنا نہیں ہوگا، اس ایکٹ کے اوپر پوری قوم اپنے آرمی چیف، اپنی حکومت کے ساتھ اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی۔
ابصار عالم نے سوال کیا کہ اگر ایسا ہوگیا پاکستان کی ’عالمی اسٹینڈنگ ‘ پر یہ اثر انداز تو کرے گا؟ رانا ثنا اللہ نے کہ اگر ایسا ہوا تو امریکا کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا ہوگا، پی ٹی آئی جو کروانے جارہی ہے وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہی ہے، اس کے بعد کے اثرات امریکا پر بھی نمایاں ہونگے اور تنقید کانشان بنے گا۔
Source link









