ڈسٹرکٹ جیل راولاکوٹ سے 18 قیدی عملے کو یرغمال بناکر فرار

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
ڈسٹرکٹ جیل راولاکوٹ سے 18 قیدی عملے کو یرغمال بناکر فرار
ڈسٹرکٹ جیل راولاکوٹ سے 18 قیدی عملے کو یرغمال بناکر فرار

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قیدیوں کے ٹولے نے جیل توڑدی ۔ سزائے موت کے چھ مجرموں سمیت 18 قیدی دن دہاڑے بھاگ نکلے۔ پولیس فائرنگ سے ایک قیدی مارا گیا۔ بھاگنے والوں میں بھارت کو مطلوب کالعدم تنظیم کا کارندہ غازی شہزاد بھی شامل ہے۔ جیل توڑنے کا منصوبہ بھی غازی شہزاد کی سربراہی میں ہی بنایا گیا۔ پولیس نے انکوائری شروع کرتے ہوئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل سمیت 8 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔

پونچھ میں قیدیوں نے دوپہرڈھائی بجے جیل توڑی اور ایسے بھاگے جیسے میراتھون ہورہی ہو۔ منصوبے کے تحت 19 قیدی مرکزی دروازے پر پہنچے اور سنتری کو گن پوائنٹ پریرغمال بنایا۔

پولیس نے جوابی کارروائی کی لیکن وہ محدود پیمانے پر تھی، ایک قیدی گولی لگنے سے زخمی ہوا جو بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ مارے جانےوالے قیدی خیام سعید کو پانچ سال قید سنائی گئی تھی۔

بھاگنے والوں میں ثاقب مجید، عثمان اقرار، شمیراعظم، عامرعبداللہ ، فیصل حمید اور ناظریاسین سزائے موت کےمجرم شامل ہیں۔

نعمان آصف، آصف دلبر اور ثقلین سرفراز کو 25 سال، مکرم فیصل، ساجد نصیر اور سہیل رشید کو 10، 10 سال قید سنائی جاچکی ہے۔

واقعہ پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل سمیت پولیس نے 8 اہلکاروں کوبھی گرفتار کرلیا۔

دوسری جانب قیدی فرار کیس کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے چیئرمین سی بی آر چوہدری محمد رقیب کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

کمشنر پونچھ اور ڈی آئی جی پونچھ کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

جیل سے فرار ہونے والوں میں ہیبت اللہ حوالاتی تھا۔ جبکہ غازی شہزاد، فیضان عزیز، اسامہ مرتضیٰ ، عمام مصطفیٰ اور محمد شبیر کے کیس زیر سماعت تھے۔

ذرائع کے مطابق فرار ہونے والا غازی شہزاد کالعدم تنظیم کا رکن اور بھارت کو مطلوب تھا۔ جیل توڑنے کی منصوبہ بندی بھی غازی شہزاد کی سربراہی میں کی گئی تھی۔

پولیس نے مفرورقیدیوں کی تلاش کے لیےضلع بھر کی ناکہ بندی کردی ہے۔ واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ جیل سے ایک انتہائی خطرناک قیدی کو دوسری جگہ منتقل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے تیس مئی کو رجسٹرار ہائی کورٹ کو خط لکھا تھا جس میں ڈسٹرکٹ جیل راولاکوٹ کو خطرناک قیدیوں کے جیل سے فرار ہونے کے امکانات کے پیش نظر انتہائی غیر محفوظ قرار دیا تھا۔ اس کے باجود جیل کی سکیورٹی کیوں نہیں بڑھائی گئی یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ ممکنہ طور پر سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کے فرار کا واقعہ پیش آیا۔

3 خطرناک قیدی

خط میں لکھا گیا تھا کہ غازی شہزاد، محمد ایاز، تیمور ممتاز خطرناک قیدی ہیں، تینوں خطرناک قیدیوں کو دوسری جیل منتقل کیا جائے، ڈسٹرکٹ جیل کی عمارت بوسیدہ اور پرانی ہے، جیل عمارت کے باہر کوئی حفاظتی دیوار بھی نہیں، جبک مصروف ترین شاہراہ بھی جیل کے باہر سے گزرتی ہے۔

اس حوالے سے خط میں کہا گیا تھا کہ جیل کا مرکزی دروازہ بھی سڑک پر کھلتا ہے، جیل دہشتگردوں کو رکھنے کے قابل نہیں ہے، ملزمان شاطر، خطرناک اور ذہین ہیں، یہ ملزمان بھاگنے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *