
راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری پاک افغان صورتحال پر اہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج نے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغان سرحد کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
پاک افغان بارڈر کے 13 سیکٹرز میں دہشت گردوں کے مجموعی طور پر 53 مقامات پر حملے کیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے اس ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق، وزیراعظم پاکستان کو “غضب للحق” کے نام سے منسوب اس اہم آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔
بریفنگ میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ حالیہ حملوں اور سرحد پار سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک “ماسٹر پراکسی” ہے جس کا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا ہے۔ “پاکستان نے اس حوالے سے افغان عبوری حکومت کو ٹھوس شواہد فراہم کیے، جس کی بنیاد پر اب افغان طالبان نے ٹی ٹی پی (TTP) کے خلاف ایکشن لیا ہے۔”
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران آپریشن ‘غضب للحق’ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاک فوج نے سرحد پار دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کے دوران دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب تک طالبان رجیم کے 274 خوارج جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔ کارروائیوں میں 400 سے زائد دہشت گرد شدید زخمی ہوئے ہیں۔افغان طالبان کی 73 پوسٹس مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ 18 اہم چیک پوسٹس اب پاک فوج کے قبضے میں ہیں۔
پاک فوج نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر ان تمام مقامات کو چن چن کر نشانہ بنایا جہاں سے ٹی ٹی پی (TTP) کو مدد فراہم کی جا رہی تھی۔پکتیا، کابل، ننگرہار، پکتیکا اور قندھار میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کئی مقامات پر بزدل افغان طالبان فورسز اور ان کے دہشت گرد ساتھی اپنی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ اس آپریشن کے دوران سول آبادی کا خاص خیال رکھا گیا۔ آپریشن کے دوران کسی بھی سویلین شہری کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی شہری ہلاک یا زخمی ہوا۔ وطنِ عزیز کی ناموس اور سالمیت کی خاطر اس آپریشن میں پاک فوج کے 12 بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ یہ کارروائی ان عناصر کے لیے واضح پیغام ہے جو پاکستان کی سرزمین کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔









