کراچی میں کھلا مین ہول 3 سالہ ابراہیم کو نگل گیا، میئر کراچی استعفے کے سوال پر برہم

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
کراچی میں کھلا مین ہول 3 سالہ ابراہیم کو نگل گیا، میئر کراچی استعفے کے سوال پر برہم
کراچی میں کھلا مین ہول 3 سالہ ابراہیم کو نگل گیا، میئر کراچی استعفے کے سوال پر برہم

کراچی میں شہری انتظامیہ کی غفلت نے ایک اور معصوم جان لے لی۔ گلشنِ اقبال نیپا پل کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم لاپتا ہوگیا۔ لیکن حکام نے ایکشن تیز کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں شروع کردیں۔

بچہ رات کے وقت والدین کے ساتھ ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور آیا تھا جہاں وہ اچانک ان کا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور قریب ہی موجود برساتی نالے میں جاگرا۔ اہلِ خانہ اور علاقہ مکین گھنٹوں تک تلاش کرتے رہے لیکن معصوم ابراہیم کا کوئی پتا نہ چل سکا۔

بچے کے دادا کے مطابق انہوں نے رات بھر تمام متعلقہ اداروں کو فون کیے، سب نے کال تو اٹھائی مگر مسئلہ سن کر فون بند کر دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میئر کراچی کا فون بھی بند تھا اور کسی نے بھی فوری طور پر امداد شروع نہیں کی۔

دادا کا کہنا تھا کہ اگر رات ہی میں تلاش کا کام شروع کردیا جاتا تو شاید معاملہ مختلف ہوتا۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ابراہیم کو ہر صورت تلاش کیا جائے تاکہ ان کے دل کو تسلی ہو سکے

دوسری جانب، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے گٹر کا ڈھکن نہ ہونے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

تین سالہ ابراہیم گھر کا اکلوتا بچہ تھا اور ماں غم سے نڈھال حالت میں ہر کسی سے فریاد کرتی رہی: ”اللہ کے واسطے میرے بچے کو بچالو۔“

گزشتہ رات کی اس دل خراش واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں بچے کی ماں کی آہ و بکا دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واقعے کو ”برساتی نالے کا کیس“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمبولینس اور مشینری نہ دینے کے معاملے کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

وہ استعفے سے متعلق سوال پر برہم ہوگئے اور کہا کہ کچھ لوگ اس حادثے پر سیاست کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک سال میں 88 ہزار گٹروں کے ڈھکن لگائے گئے ہیں، اور جہاں کوتاہی ثابت ہوئی وہاں کارروائی ہوگی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے بھی شہر کی تباہ حال صورتحال پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں، لیکن شہر کا کوئی والی وارث نہیں۔

انہوں نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ شہر میں قبضوں کے سوا کچھ نہیں کر رہی۔

حافظ نعیم نے بی آر ٹی منصوبہ ختم کرنے اور یونیورسٹی روڈ کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کراچی میں کھلے مین ہولز اور نالوں میں گر کر کم از کم 20 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

تین سالہ ابراہیم کی تلاش تاحال جاری ہے، اور کراچی ایک بار پھر انتظامی غفلت کا شکار ایک معصوم کی زندگی پر سوگوار ہے۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *