کراچی: کھلے گٹر میں ایک اور بچی کے گرنے کی ویڈیو وائرل، رواں برس 24 جانیں ضائع

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
کراچی: کھلے گٹر میں ایک اور بچی کے گرنے کی ویڈیو وائرل، رواں برس 24 جانیں ضائع
کراچی: کھلے گٹر میں ایک اور بچی کے گرنے کی ویڈیو وائرل، رواں برس 24 جانیں ضائع

کراچی کے کھلے مین ہول میں ایک اور بچی کے گرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس نے ایک بار پھر شہر میں کھلے گٹروں کے سنگین مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق یہ واقعہ سات روز قبل ایم پی آر کالونی میں پیش آیا تھا، جب گلی کے وسط میں موجود بڑے کھلے ہول نے ایک کمسن بچی کی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔ خوش قسمتی سے اہلِ علاقہ نے فوری مدد کرکے بچی کو بچا لیا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایم پی آر کالونی سمیت مختلف علاقوں میں نالے اور سیوریج کے بڑے بڑے کھلے سوراخ موجود ہیں، جن کی وجہ سے روزانہ حادثات پیش آتے ہیں۔ مکینوں کے مطابق بیچ گلیوں میں ایسے کھلے گٹر موت کے کنوئیں بن چکے ہیں جو آئے دن کسی نہ کسی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

صرف ایک کالونی نہیں، پورا شہر کھلے گٹروں کے رحم و کرم پر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک 24 افراد، جن میں کمسن بچے بھی شامل ہیں، کھلے مین ہولز کی نذر ہو چکے ہیں۔ نیپا کے قریب ننھے ابراہیم کی المناک موت بھی انہی حادثات میں شامل ہے۔ اس کی زندگی گندے پانی میں ڈوب گئی، مگر ذمہ دار اداروں کی کارکردگی زبانی اعلانات سے آگے نہ بڑھ سکی۔

مسلسل ہونے والے سانحات پر سول سوسائٹی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا اور میئر کراچی کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف اور معاوضہ دیا جائے، ورنہ شہر بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ سول سوسائٹی نے کہا کہ کراچی کے لوگ روز موت کے خطرے میں چلتے ہیں لیکن انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت میں میئر کراچی اور چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن کے خلاف مقدمے کی درخواست بھی دائر کردی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق کھلے مین ہولز کے باعث ہونے والے سانحات دراصل بلدیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی سنگین غفلت کا نتیجہ ہیں، جس کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ گٹروں کو فوری طور پر بند کیا جائے، سیوریج سسٹم کو بہتر کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ مزید جانیں بچائی جاسکیں۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *