کینو کی ایکسپورٹس 50 فیصد تک کم ہونے کا خدشہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
کینو کی ایکسپورٹس 50 فیصد تک کم ہونے کا خدشہ
کینو کی ایکسپورٹس 50 فیصد تک کم ہونے کا خدشہ

حکومت کینو کی صنعت کے تحفظ و بحالی کے لئے ہنگامی اقدامات کرے، پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق کینو کی ایکسپورٹس 50 فیصد تک کم ہونے کے خدشات ہیں۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق کینو کی صنعت بحران کا شکار ہے۔

پاکستانی کینو کی ساٹھ سال قبل متعارف کرائی گئی ورائٹی بیماریوں سے لڑنے کی قدرتی مزاحمت کھو چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں بھی کینو کی پیداوار اور معیار پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق توجہ نہ دی گئی تو آئندہ دو سال میں کینو کی ایکسپورٹس مکمل بند ہونے اور شعبے سے وابستہ چار لاکھ افراد کا روزگار ختم ہونے کے خدشات ہیں۔

انہوں نے کہا پاکستانی کینو کی شیلف لائف کم ہونے سے کینو خراب حالت میں ایکسپورٹس مارکیٹ تک پہنچ رہا ہے۔ جس سے کینو کے برآمدی آڈرز نہیں مل رہے۔ نتیجتاً 15 نومبر سے جاری کینو کے ایکسپورٹس سیزن میں کئی پروسسنگ فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔

وحید احمد کے مطابق پی ایف وی اے کئی سالوں سے وفاق اور پنجاب حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہا ہے، نگراں حکومت سے مشاورت کے بعد کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

پی ایف وی اے نے نگراں حکومت سے نئی ورائٹیز کے لئے نرسریاں بنانے اور انہیں قانونی تحفظ دینے کی سفارش کی ہے، جبکہ ترش پھلوں کی صنعت کی بحالی کے لئے چین، ترکی، مصر، مراکش اور امریکی تجربے سے فائدہ اٹھانے کی تجویز دی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *