کینیڈا:مارک کارنی نےپارلیمانی انتخابات میں جیت کا اعلان کردیا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
کینیڈا:مارک کارنی نےپارلیمانی انتخابات میں جیت کا اعلان کردیا
کینیڈا:مارک کارنی نےپارلیمانی انتخابات میں جیت کا اعلان کردیا

ویب ڈیسک: کینیڈا میں اگلے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجےمکمل ہو گیا۔ جس میں شہریوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ذرائع کے مطابق مارک کارنی کی لبرل پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ 

مارک کارنی کا انتخاب میں جیت کا اعلان:

انتخابات میں جیت کے بعد اپنی وننگ اسپیچ میں مارک کارنی نےاپنی تقریر میں انکساری، جذبہ، اور اتحاد پر زور دیا۔

کارنی نے اپنی تقریر میں اپنی بیوی اور بچوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے “مجھے روزانہ خدمت کی ترغیب دی”، اور ان افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کینیڈا کی خدمت کے لیے خود کو پیش کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ سیاست میں اس لیے شامل ہوئے کیونکہ انہیں لگا کہ کینیڈا کو “بڑی تبدیلیوں” کی ضرورت ہے، اور ان تبدیلیوں کی رہنمائی کینیڈیائی اقدار سے ہونی چاہیے۔

کارنی نے کہا کہ یہ وہ اقدار ہیں جو انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ کھانے کی میز پر سیکھی، اپنے آئس ہاکی کوچز سے آئس پر سیکھیں، اور جو اقدار کینیڈا کے مختلف حصوں میں لوگوں سے ملاقات کے دوران مزید مستحکم ہوئیں۔

وہ تین اہم اقدار کی بات کرتے ہیں جو ان کے مطابق ان کی رہنمائی کرتی ہیں – انکساری، جذبہ، اور اتحاد۔

کارنی نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو کینیڈا کی خدمت پر مبارکباد دی:

کارنی نے دیگر پارٹی کے رہنماؤں کو کینیڈا کی خدمت پر مبارکباد دی، اور خاص طور پر نیو ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) کے رہنما جگمیت سنگھ کی شراکت کا شکریہ ادا کیا۔

NDP کے رہنما نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

کارنی نے سنگھ کی “پروگریسیو اقدار کی قیادت” کی تعریف کی، اور پھر کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پویلیئور کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس ملک کے لیے اپنی خدمات پیش کیں “جسے ہم دونوں محبت کرتے ہیں”۔

اس سے قبل انتخابات میں وزیر اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولی ایو کے درمیان سخت مقابلے کی توقع تھی۔ 343 نشستوں پر مشتمل ایوان میں حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو 172 نشستوں کی ضرورت ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق، ابتدائی نتائج میں لبرل پارٹی کو برتری حاصل ہے۔ پبلک براڈکاسٹر سی بی سی اور سی ٹی وی نیوز نے پیش گوئی کی ہے کہ لبرل پارٹی اگلی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، تاہم اکثریت حاصل ہونے کے حوالے سے ابھی حتمی صورتحال واضح نہیں۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق لبرل پارٹی 158 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو 143 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ بلاک کیوبک کو 24 اور این ڈی پی کو 10 نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ کینیڈا میں سینیٹ کے اراکین کا تقرر کیا جاتا ہے اور وہ وزیراعظم کے انتخاب میں حصہ نہیں لیتے۔

ووٹوں کی گنتی تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ اگلی صبح سے پہلے ہی زیادہ تر ووٹوں کا شمار مکمل کر لیا جائے گا۔

الیکشن سے قبل لبرل پارٹی کے پاس 152 نشستیں، کنزرویٹو پارٹی کے پاس 120، بلاک کیوبک کے پاس 33 اور این ڈی پی کے پاس 24 نشستیں تھیں۔

کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر پیئر پولی ایو نے انتخابی مہم میں مہنگائی، امیگریشن اور سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم، ٹروڈو کے مستعفی ہونے اور سابق مرکزی بینک کے سربراہ مارک کارنی کے لبرل قیادت سنبھالنے کے بعد سیاسی منظرنامے میں تبدیلی آئی۔

مارک کارنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اقتصادی بحران کے دوران اپنی قیادت کی مہارتوں کی بدولت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔

پیئر پولی ایو نے زور دیا کہ کینیڈا ایک خود مختار اور آزاد ملک ہے اور کبھی بھی امریکا کی 51ویں ریاست نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام اپنے ووٹ کے ذریعے خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے لیڈر جگمیت سنگھ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا مستقبل یہاں کے عوام خود طے کریں گے، کسی بیرونی شخصیت کو یہ حق حاصل نہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر بیان دیا تھا کہ کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست ہونا چاہیے۔ انتخابات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب مہنگائی، گھر کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، 6.7 فیصد بے روزگاری اور صحت کی سہولیات تک رسائی جیسے مسائل عوام کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *