پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کے نویں سیزن میں جہاں شائقینِ کرکٹ جوک در جوک اپنی من پسند ٹیم کا میچ دیکھنے اسٹیڈیم کا رخ کر رہے ہیں وہیں شائقین کی طرف سے فلسطین کے بینرز پر پابندی سے متعلق غم و غصے کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ ٹویٹ میں ایک خاتون نے ٹویٹ میں مینجمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ جب وہ اسٹیڈیم میں ‘فری فلسطین’ کا بینر لیکر داخل ہونے لگیں تو انہیں روک لیا گیا۔
خاتون نے لکھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ان سے کہا کہ یہ بینرز اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس پر متنازع پیغام درج ہے۔ اگر آپ اسٹیڈیم کے اندر جانا چاہتی ہیں تو آپ کو یہ بینر باہر چھوڑنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ سیکیورٹی اہلکار مجھے ایسے روک رہے تھے جیسے میں اپنے ساتھ ہتھیار لے کر جا رہی ہوں۔
نامور صحافی ضرار کھوڑو نے بھی اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے پی سی بی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا میچ میں آزاد فلسطین کے بینرز کی اجازت نہ دینا پالیسی ہے؟ برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے قومی کرکٹر اعظم خان کو میچ کے دوران بلے پر لگے فلسطین کے جھنڈے کو ہٹانے کا کہا گیا تھا۔









