بھارتی پارلیمان میں گھسنے اور گرفتار ہونیوالے نوجوان کے والد کا موقف بھی …
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں (لوک سبھا)میں گھس کر ہنگامہ آرائی کرنے اور سموک بم پھینکنے والے ایک نوجوان کے باپ نے کہا ہے کہ اگر اس کے بیٹے کا جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق 2001ءمیں اسی روز لوک سبھا پر حملہ ہوا تھا۔ دو دہائیوں بعد حملے کے روز ہی دو نوجوان اجلاس کے دوران اچانک وزیٹرز گیلری سے کود کر اراکین پارلیمان کی نشستوں والے حصے میں چلے گئے اور سموک بم پھینک دیا جس سے پیلے رنگ کا دھواں نکل کر ایوان میں پھیل گیا۔ ارکین پارلیمان میں اس حرکت پر افراتفری مچ گئی۔
یہ حرکت کرنے والے ملزمان 34سالہ منورنجن دیو راج گوڈا اور 26سالہ ساگر شرما ریاست اترپردیش کے شہری ہیں۔پولیس نے فوری طور پر دونوں کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں نئی دہلی میں رہائش دینے والے وشال شرما اور ان کے ساتھ پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر احتجاج کرنے والے امول شندے اور نیلم دیوی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا چھٹا ساتھی للت تاحال مفرور ہے۔
یہ تمام لوگ پارلیمنٹ کے باہر بیروزگاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔پارلیمان کے اندر گھسنے والے دونوں افراد انجینئرنگ گریجوایٹ ہیں۔ انہیں پارلیمنٹ ہاﺅس میں داخلے کے لیے پاس بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاب سنہا نے مہیا کیے تھے۔
منورنجن کے باپ دیو راج گوڈا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”جو کچھ ہوا وہ سخت قابل مذمت ہے۔ اگر میرے بیٹے نے کچھ غلط کیا ہے تو اس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔وہ ہمیں یہ بتا کر گھر سے نکلا تھا کہ ملازمت کی تلاش میں بنگلور جا رہا ہے۔ اگر اس نے کچھ غلط نہیں کیا تو پھر ٹھیک ہے لیکن اگر اس نے کچھ غلط کیا ہے تو اسے لٹکا دیں۔“









