ایڈنبرگ (ویب ڈیسک) سکاٹ لینڈکے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد لانےکا اعلان کر دیا جس کے بعد وہ عہدے سے مستعفی ہوسکتے ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق یہ پیش رفت حکومتی اتحاد کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جب سکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) نے حکمران جماعت سکاٹش گرینز (ایس جی) کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا۔دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی اس وقت ناقابل واپسی صورت حال تک پہنچی جب وزرا نے موسمیاتی تبدیلی کا ایک اہم ہدف پورا نہ ہونے اور بلوغت کی دوا کے استعمال کو روک دیا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حمزہ یوسف نے کہا کہ وہ ایک اقلیتی حکومت کے طور پر حکومت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں, انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ’مشکل‘ ہو گا لیکن وہ اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔انہوں نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ ’مجھے یقین ہے کہ میں عدم اعتماد کا ووٹ جیتنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔
کنزرویٹو، لیبر، گرینز اور لبرل ڈیموکریٹس حمزہ یوسف پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، انہیں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے ایش ریگن کی حمایت کی ضرورت ہوگی، جنہوں نے گزشتہ سال سکاٹش نیشنل پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔اگر حمزہ یوسف کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو پارلیمان کے پاس انتخابات سے پہلے نئے وزیر کا انتخاب کرنے کے لیے 28 دن ہوں گے۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ حمزہ یوسف کو اپنی سکاٹس نیشنل پارٹی کے 63 ممبران کی حمایت حاصل ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس بھی 63 اراکین پارلیمنٹ کی حمایت موجود ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے ووٹ برابر ہونےکی صورت میں پریزائیڈنگ افسر ووٹ کاسٹ کرے گا، روایتی طور پر پریذائیڈنگ افسر حکومت کے حق میں ووٹ دیتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف 29 مارچ 2023 کو سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر (وزیراعظم) منتخب ہوئے تھے۔انہیں سکاٹ لینڈ کے سب سے کم عمر نوجوان اور پہلے ایشیائی مسلم فرسٹ منسٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔









