
وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کو ایک اور اہم فیصلہ ساز ادارے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹادیا ہے۔ وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کو کمیٹی کا چیئرمین بنانے کی کوششوں کے بعد یہ منصب وزیرِ اعظم نے اپنے پاس رکھا ہے۔ اسحاق ڈار کو کمیٹی میں رکھا گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کو اس سے قبل نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کی سربراہی سے ہٹاکر اسحاق ڈار کو اس منصب پر لایا گیا تھا۔
کابینہ ڈویژن نے اہم معاشی فیصلے کرنے والی قومی اقتصادی کونسل میں تبدیلی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ کمیٹی کی سربراہی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔
اس کے ارکان میں وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب اور وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہیں۔
قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ارکان کی تعداد 8 ہے۔ چار وفاق کے نمائندے ہیں اور چاروں صوبوں سے ایک ایک شخصیت کو لیا گیا ہے۔
سندھ سے جام خان شورو، خیبر پختونخوا سے وزیر اعلیٰ کے مشیر مزمل اسلم اور بلوچستان سے وزیرِ خزانہ شعیب نوشیروانی کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کو 10 ارب روپے یا اس سے زائد مالیت کے تعمیری منصوبوں کی منظوری دینے کا اختیار حاصل ہے۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ مواصلات سے متعلق اہم ترقیاتی منصوبے قومی اقتصادی کونسل کی نگرانی میں کام کریں گے۔









