ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کردیں گے، وزیر خزانہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کردیں گے، وزیر خزانہ
ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کردیں گے، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کردیں گے، نئے مالی سال میں جانے سے پہلے کوشش تھی کہ ہم سارا بیک لاگ ختم کرسکیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ میکرو استحکام پر بہت باتیں ہوچکی ہیں، سمجھنا چاہیئے کہ میکرو استحکام ہمیں کیوں چاہیئے، ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے 12 فیصد پر آگئی ہے، ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق بات ہوئی ہے، پاکستان کے زرمبادلہ 9 بلین ڈالر کے ہیں، حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایات بہتری آئی، سب لوگ حقائق اور اعداد و شمار جانتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی بینک نے داسو کے لیے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی ہے، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے پی ٹی سی ایل کے لیے 400 ملین ڈالر منظور کیے، یہ رقم اگلے مالی سال آجائے گی، ایف بی آر 9.3 ٹریلین روپے کی ٹیکس وصولیاں کرلیں، ٹیکس وصولیوں میں گروتھ 30 فیصد ہے۔

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ میکرو اسٹیبلیٹی کو ہم نے مستقل کرنا ہے اور یہ انتہائی ضروری ہے، جو میکرو اشارے ہیں وہ اگے پیچھے ہوگئے تو ہم مائیکرو مغیرات پر ضرور آئیں گے لیکن اگر میکرو اسٹیبلیٹی رک گئی تو مشکل ہوجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ کے جو اصول میں نے بتائے اس میں 3 چیزیں ہیں کہ ایک تو ہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے جانا چاہتے ہیں اگلے 3 سال میں، اسی طرح ایل این جی، پاور سیکٹر ، پیٹرولیم اصلاحات انتہائی اہم ہیں، 10 کھرب روپے بہت ہیں اگر اس قسم کی لیکیج ملک میں نہ ہورہی ہو تو۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جو کام ہمارا کرنے کا ہے کہ لیکجز کو، کرپشن کو، چوری کو کیسے بند کرنا ہے تو اس معاملے پر ٹھوس اقدامات لیے جارہے ہیں ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے، اس کا مقصد یہ ہے اب لوگ موبائل ایپ پر سب کام ہورہا ہے، یہی مقصد ہے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کا کہ جتنے کم لوگ اس عمل میں شامل ہوں گے اتنی ہی کرپشن کم ہوگی، یف بی آر حکام اور ٹیکس دہندہ گان دونوں چوری میں ملوث ہیں۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے معاشی استحکام سےغیرملکی اداروں کا اعتماد بحال ہوا، معاشی بہتری کواب پائیدارمعاشی استحکام کی طرف لےجاناہے۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے نان فائلرز کی اصطلاح سمجھ نہیں آتی، اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کردیں گے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ 2022 میں جو مفتاح نے ریٹیلرز پر ٹیکس کا قدم اٹھایا تھا وہ ہونا چاہیئے تھا، کل تک 42 ہزار ریٹیلرز رجسٹر ہوگئے، ریٹیلرز پر یکم جولائی سے ٹیکس لگے گا، پارلیمنٹ میں بھی کہا کہ نان فائلر کی اختراع مجھے سمجھ نہیں آتی اس اختراع کو ملک سے ختم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اخراجات کی بھی بات کرنا چاہتا ہوں، اس مین وزرا نے تو سیلری لینے سے انکار کردیا اور ہم اپنے یوٹیلیٹی بلز بھی خود دے رہے ہیں، یہ علامتی چیزیں ہیں، ہم نے پی ایس ڈی پی کو کاٹا تاکہ پبلک اخراجات کو کم کیا جائے، پنشن بجٹ کا حصہ نہیں تھا لیکن ای سی سی میں یہ فیصلہ ہوا، یہ بھی ایک اہم ذمہ داری ہے، اس میں ہم نے اقدامات لیے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ کوئی کمپنی نقصان میں جاتی ہے تو اس پر ٹیکس نہیں ہوگا،

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *