2018 میں بھی پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرایا پھر انتخابی نشان کیسے ملا؟ سپریم کورٹ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
2018 میں بھی پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرایا پھر انتخابی نشان کیسے ملا؟ سپریم کورٹ
2018 میں بھی پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرایا پھر انتخابی نشان کیسے ملا؟ سپریم کورٹ



سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کی مخصوص نشست کا سوال اٹھایا تو جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ماضی میں جائیں گے تو بہت سی باتیں کھلیں گی، 2018 میں بھی پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرایا پھر انتخابی نشان کیسے ملا؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بی اے پی کا معاملہ دیکھیں تو چیئرمین سینٹ کا الیکشن بھی پھرغلط تھا، پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ سامنے آجائے گا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، محمد علی مظہر، عائشہ ملک، اطہر من اللہ، سید حسن اظہر رضوی، شاہد وحید، عرفان سعادت خان اور نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ تھے۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی گئی۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *