سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا تحریری استعفی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کیا ہے تاہم ابھی اس کا متن سامنے نہیں آیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن سپریم کورٹ کی سنیارٹی میں تیسرے سینئر ترین جج تھے، موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد رواں سال اکتوبر میں انہیں ملک کا آئندہ چیف جسٹس بننا تھا اور اگست 2025 میں ان کی ریٹائرمنٹ ہونا تھی۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس زیر سماعت ہے جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات ہیں جب کہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے دو روز قبل سابق جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے اختلاف کیا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے آج سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی اور وہ سپریم جوڈیشل کونسل سے الگ ہوگئے جس کے بعد جسٹس منصور کو کونسل میں شامل کرلیا گیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے آج مستعفی جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے جسٹس مظاہرنقوی کو دوسرے شوکاز پر جسٹس اعجاز الاحسن نے اختلافی نوٹ بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے شوکاز واپس لینےکا مطالبہ کیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ کونسل کی کارروائی روایات کے خلاف غیرضروری جلد بازی میں کی جا رہی ہے، جسٹس مظاہر نقوی کےخلاف کارروائی قانونی تقاضوں کے بھی خلاف ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی ریفرنس فیصلےکی نفی ہے، کونسل کو اپنے آئینی اختیارات نہایت احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے چاہئیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے معاملے میں غوروفکر کیا گیا اور نہ ہی اس کی اجازت دی گئی، جسٹس مظاہر نقوی پر لگائےگئے الزامات بغیر ثبوت اور میرٹ کے خلاف ہیں، زیادہ تر الزامات جائیداد یا ٹرانزیکشن سے متعلق ہیں،قانون کی نظر میں لگائے گئے الزامات برقرار نہیں رہ سکتے۔

 

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *