
خیبر پختونخوا کے محکمہ سوشل ویلفیئر میں خاتون کو ہراساں کرنے کے معاملے میں محکمہ کے سیکرٹری کی بنائی گئی انکوائری کمیٹی بے سود رہی۔ ہراسانی میں ملوث افسر کو سزا دینے کی بجائے معاملہ رفع دفع کروا دیا گیا۔
محکمہ سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا میں کلاس فور کی خاتون ملازمہ نے سیکرٹری سوشل ویلفیئر کو بھیجی گئی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ میل اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے کال نہ اٹھانے پر میرا تبادلہ کر دیا گیا۔
خاتون ملازمہ کے مطابق میں گذشتہ 4 سال سے ادارے میں کام کر رہی ہوں، لیکن اسسٹنٹ ڈائریکٹر مسیح اللہ نے کال نہ ریسیو کرنے کی پاداش میں ٹرانسفر کر دیا۔
خاتون کی شکایت پر محکمہ کے سیکرٹری نے انکوائری کمیٹی بناکر 7 دن میں جواب طلبی کی تھی۔ تاہم اب خاتون ملازمہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ انکوائری کمیٹی نے خاتون ملازمہ ہراساں کرنے والے آفیسر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے معاملہ رفع دفع کروا دیا۔
ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر رفیق مہمند نے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے آج نیوز کو بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کا انکوائری آفیسر کو پتا ہوگا، مجھے اس بات کا علم نہیں ہے۔









