پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس ملے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس ملے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان واپس کرنے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر اپیل پر براہ راست سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر سربراہی جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 3 رکنی بینچ کیس نے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے۔

پی ٹی آئی وکیل حامد خان نے کہا کہ فیصلہ پڑھا ہے، پشاور ہائی کورٹ نے بہترین فیصلہ لکھا ہے۔

دریں اثنا حامد خان کے بلانے پر بیرسٹر علی ظفر دلائل کے لیے روسٹرم پر آگئے، انہوں نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا آخری دن ہے، وقت کی قلت ہے اس لیے جلدی دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس بھی وقت کم ہے کیونکہ فیصلہ بھی لکھنا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا عدالت کی معاونت کروں گا لیکن آج انتخابی نشان، حتمی فہرستوں کے اجراء کی آخری تاریخ ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا عدالت کو ادراک ہے، عدالت پر ایک بوجھ فیصلہ لکھنے کا بھی ہے جو وکیل پر نہیں ہے،وکیل تو بس دلائل دےکر نکل جاتے ہیں ہمیں فیصلہ لکھنے کے لیے بھی وقت درکار ہوتا ہے۔

وکیل علی ظفر نے کہا آئین اور الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کوانٹرا پارٹی الیکشن کے جائزےکی اجازت نہیں دیتے، انتخابی نشان انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے نہیں روکا جا سکتا، آرٹیکل 17 دو تحت سیاسی جماعتیں بنانے کا اختیار دیتا ہے، سپریم کورٹ بھی آرٹیکل 17 دو کی تفصیلی تشریح کر چکی ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ انتخابات ایک انتخابی نشان کے ساتھ لڑنا سیاسی جماعت کے حقوق میں شامل ہے، سیاسی جماعت کو انٹراپارٹی انتخابات کی بنیاد پر انتخابی نشان سے محروم کرنا آرٹیکل 17 دو کی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے، الیکشن کمیشن نے بلے کا نشان چھین کر بظاہر بدنیتی کی ہے، الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں جو فیئر ٹرائل دے سکے۔

انہوں نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی ممبر نے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج نہیں کیا، اگر انتخابات چیلنج بھی ہوتے تو یہ سول کورٹ کا معاملہ بنتا ہے، الیکشن کمیشن کے پاس از خود نوٹس کا اختیار نہیں ہے، الیکشن کمیشن کا انتخابی نشان سے انکار آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے، الیکشن کمیشن احکامات حقائق کے برعکس، صوابدیدی ہوں تو عدالت کو جوڈیشل ریویو کا اختیار ہے، بنیادی سوال یہ ہےکہ سیاسی جماعت یا افراد کے سول رائٹس کا فیصلہ آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل سے ہو سکتا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آرٹیکل 10 اے سے متصادم ہے کیونکہ ایسا کوئی ٹرائل نہیں ہوا۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے جو پرائیویٹ شہریوں کی تنظیم ہے، الیکشن کمیشن کو ازخود طور پر شکایت کنندہ اور فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے، پی ٹی آئی نے 8 جون 2022 کو پہلا انتخاب کرایا، 23 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ غلط الیکشن ہیں، دوبارہ 20 دن میں کرائے جائیں، الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ اس وقت دیا جب سپریم کورٹ نے 8 فروری کی تاریخ کا فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے حکم نامے میں تسلیم شدہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کا ذکر نہیں کیا، الیکشن کمیشن نے فیصلے کی جو وجوہات دی ہیں وہ عجیب ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست کہا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی، الیکشن کمیشن نے کہا تعیناتی درست نہیں اس لیے انتخابات تسلیم کرینگے نہ ہی نشان دینگے، کل مخدوم علی خان نے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے تھے، مخدوم علی خان کا نکتہ پارٹی کے اندر جمہوریت کا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا جمہوریت ملک کیساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے، بنیادی سوال جمہوریت کا ہے پارٹی آئین پر مکمل عملدرآمد کا نہیں، کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں، انتخابات جو بھی ہوں ہر کوئی ان سے خوش نہیں ہوتا، اکبر بابر بانی رکن تھے وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن انکی رکنیت تو تھی، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزار پارٹی رکن نہیں تھے، اکبر بابر نے اگر استعفیٰ دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صرف سوشل میڈیا یا میڈیا پر الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرنا کافی نہیں، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہو گی، الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران شوکاز نوٹس کیے گئے، الیکشن ایکٹ کو چیلنج نہیں کیا گیا اس لیے ایکٹ پر کوئی بات نہیں کریں گے، کیا آپ کی حکومت میں الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ تھا جو اب کسی کے ماتحت ہو گیا؟

بیرسٹر علی ظفر نے کہا الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کر رہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کیا پی ٹی آئی نے اپنا جاری کردہ شیڈول کو فالو کیا تھا؟ کیا انتخابات شفاف تھے کچھ واضح تھا کہ کون الیکشن لڑ سکتا ہے کون نہیں؟

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا آپ لیول پلینگ فیلڈ مانگتے ہیں اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلینگ فیلڈ دینی ہو گی، الیکشن کمیشن نے ازخود تو کارروائی نہیں کی شکایات ملنے پر کارروائی کی۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا الیکشن کمیشن نے ایسی کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی، تمام سوالات کے جواب دستاویزات کے ساتھ دوں گا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا جب پارٹی الیکشن ہو رہا تھا اس وقت پارٹی ہیڈ کون تھا، جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا اس وقت سربراہ بانی پی ٹی آئی تھے، جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215کے تحت اقدام کیا۔

چیف جسٹس نے کہا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک بھی شخص نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا، عام انتخابات میں بھی ہوتا ہےکہ ہر شخص الیکشن لڑ سکتا ہے چاہے ووٹ نہ ملیں، عام انتخابات میں بھی ہوتاہےکہ اتنی تعداد میں ووٹ ہوں ورنہ دوبارہ انتخابات ہوں گے، ایسے تو پی ٹی آئی آمریت کی طرف جا رہی ہے، کسی اور کو پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات لڑنےہی نہیں دیا، سینیٹ میں بھی اگر ایک بھی ووٹ نہ پڑےتو وہ منتخب نہیں ہوتے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا ایسے تو میں بھی سینیٹ میں بلامقابلہ سینیٹر بنا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا پی ٹی آئی کی پوری باڈی بغیر مقابلےکے آئی، پی ٹی آئی میں لوگ الیکشن سےنہیں سلیکشن سے آئے، اگر 6 پینل تھے اور 6 کے 6 منتخب ہوگئے تو پھر اجتماع کی کیا ضرورت تھی؟

پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا پارٹی آئین کے مطابق عوامی طور پر نتائج کا اعلان کرنا پولنگ وینیوپر ضروری تھا، وینیو پر 500 سے سوا 500 لوگ جمع ہو گئے تھے، عدالت سوال پوچھتی ہے وکیل اس کا جواب دیتا ہے تو اس طرح کا ماحول ہمیں بنانا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا یہ بات تو واضح ہوگئی کہ اکبر ایس بابر بانی رکن تھے لیکن پھر آپ نے آئین بدل لیا، حامد خان صاحب نے تو پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ وہ بانی رکن ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو جانچنے کا اختیار نہیں دیتا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا اگر پارٹی فنڈ سے متعلق جانچنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو ہےتوپارٹی الیکشن کے انتخابات نہ جانچنے کا اختیار کیسے نہیں۔

سپریم کورٹ میں بلے کے نشان سے متعلق سماعت مکمل کرلی اور الیکشن کمیشن کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ محفوظ فیصلہ کچھ دیر تک سنایا جائے گا، ابھی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہمیں سانس لینے دیں، اپنے ساتھ ججز سے بھی مشاورت کرنا ہو گی۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ دونوں جانب سے اچھے دلائل دیے گئے ، دلائل جذب کرنے اور نتیجے تک پہنچنے میں وقت درکار ہے۔

 

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *