بلے سے محروم پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) کے امیدواروں کو بکری، کُھسّہ، توا، زبان، سبز مرچ، فرائی پین، جہاز، ریڈیو، وکٹ، انار، چارپائی، ہینڈ پمپ اور گھڑیال سمیت مختلف انتخابی نشانات الاٹ کر دیے گئے۔
سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلےکے انتخابی نشان کےکیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلا واپس لینے کا فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد اب بلے سے محروم پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) کے امیدواروں کو مختلف نشانات الاٹ کر دیے گئے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کو کے پی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 10 پر آزادی حیثیت میں چینک کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ این اے 21 سے مجاہد علی کو فاختہ جب کہ این اے 23 سے علی محمد خان کو ڈولفن کا نشان دیا گیا ہے۔
پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 29 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ارباب عامر ایوب کو پیالہ اور این اے 47 سے پی ٹی آئی کے شعیب شاہین کو فاختہ کے نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
دیر بالا سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 5 پر صاحبزادہ صبغت اللہ کو انتخابی نشان کٹورا اور این اے 22 سے پی ٹی آئی رہنماؤں عاطف خان کو درانتی کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 45 پر سابق اسپیکر مشتاق غنی کو چینک کا نشان الاٹ کیے گئے ہیں۔ پشاور سے کے پی اسمبلی کے حلقہ پی کے 73 سے علی زمان کو مور، پی کے 75 سے ملک شہاب کو پیالہ کے انتخابی نشابات دیے گئے ہیں۔
مردان سے کے پی اسمبلی کے تحریک انصاف کے امیدواروں کو مختلف انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
پی کے 54 سے پی ٹی آئی کے زرشاد خان کو چارپائی، پی کے 55 سے طفیل انجم کو تکیہ، پی کے 56 سے امیر فرزند و چارپائی، پی کے 57 سے ظاہر شاہ طور کو جہاز کے نشانات دیے گئے ہیں۔
پی کے 58 سے عبدالسلام آفریدی کو فاختہ، پی کے 59 مردان پر پی ٹی آئی کے طارق محمود کو وہیل چیئر، پی کے 60 پر افتخار علی مشوانی کو پَر، پی کے 61 پر احتشام علی کو فاختہ کے نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
کالاباغ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 89 سے پی ٹی آئی رہنما جمال احسن خان کو بوتل کا نشان الاٹ ہوا ہے۔ پی ایس 85 عیسیٰ خیال سے میجر (ریٹائرڈ) اقبال خٹک کو وکٹ کا نشان دیا ہے۔
کے پی سے صوبائی نشست پی کے 69 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عدنان قادری کو پیالہ، پی کے 70 سے سہیل آفریدی کو گھڑی، پی کے 71 سے عبدالغنی آفریدی کو ٹرانسفامر کے نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
رحیم یار خان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 172 سے پی ٹی آئی حمایت یافتہ خاتون امیدوار قمر جاوید وڑائچ کو پیالہ نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ پنبجاب اسمبلی کی نشست پی پی 262 سے چوہدری آصف مجید اور پی پی 263 سے چوہدری نعیم شفیق کو بھی پیالہ بطور انتخابی نشان الاٹ کیے گئے ہیں۔
چنیوٹ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 93 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ غلام محمد لالی کو بوتل، پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 95 سے شوکت تھہیم کو چارپائی اور پی پی 97 سے سلیم بی بی بھروانہ کو بوتل کے نشانات ملے ہیں۔
اٹک سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 49 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ میجر (ر) طاہر صادق کو ’’بھیڑ‘‘، این اے 50 سے ایمان طاہر کو واٹر ٹربائن کے انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
جلالپور بھٹیاں سے حلقہ این اے67 سے پی ٹی آئی امیدوار انیقہ مہدی بھٹی کو ریڈیو، پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 37 سے پی ٹی آئی کے اسد اللہ آرائیں کو حقہ، پی پی 38 پر سکندر نواز کو ڈولفن اور پی پی 39 حافظ آباد چوہدری قمر جاوید کو کوئل کے نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔
سندھ کے شہر ٹنڈوالہیار سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 217 پر پی ٹی آئی امیدوار روزینہ بھٹو کو بکری، صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 58 پر راشد میئو کو گائے، پی ایس 59 پر اسلم لغاری کو بکری کے نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔









