بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا پہل نہیں کریں گے: اسحاق ڈار

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا پہل نہیں کریں گے: اسحاق ڈار
بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا پہل نہیں کریں گے: اسحاق ڈار


اسلام آباد :ڈی جی آئی ایس پی آر  لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار  مشرکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ ان کے ساتھ   ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان  بھی ہیں۔

پریس کانفرنس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پہلگام واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے اور پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اپنایا، جو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، یہی ہمارا قومی بیانیہ ہے اور یہی اسلام کی بھی تعلیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کوششیں کر رہا ہے، اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے بھی اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں کو بھی سراہا جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جس کی منصوبہ بندی، سازش اور سرپرستی بھارت کی جانب سے کی گئی۔ اس تناظر میں پاکستان پر پہلگام حملے کا الزام عائد کرنا نہایت مضحکہ خیز ہے۔”

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا رہا ہے، اور اسے دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے اپنے اندرونی حالات پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بھارت میں ایسے حملے اکثر اُس وقت ہوتے ہیں جب کوئی عالمی رہنما ملک کا دورہ کر رہا ہوتا ہے، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

 وزیر خارجہ نے کہا پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جس کی منصوبہ بندی اور سرپرستی بھارت کی جانب سے کی گئی۔ ایسے میں بھارت کا پاکستان پر انگلی اٹھانا حقیقت کے برخلاف ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اکثر ایسے حملے اُس وقت ہوتے ہیں جب کوئی عالمی رہنما ملک کا دورہ کر رہا ہوتا ہے، اور یہ کہ ان واقعات کو میڈیا میں منظم انداز میں ہائپ بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔

“یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت نے اس قسم کی افواہوں اور الزامات کا سہارا لیا ہو۔ ماضی میں پلواما واقعہ میں بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا۔ یہ اب بھارت کا معروف ہتھکنڈہ بن چکا ہے تاکہ کشمیر میں اس کی ناکامیوں اور ریاستی جبر سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ عالمی برادری بھارت کے ان اقدامات کا نوٹس لے، جو نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود بھارت کے اندرونی مسائل کو بھی مزید الجھاتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں ہر واقعے پر جو ہنگامہ اور میڈیا کی ہائپ پیدا کی جاتی ہے، وہ جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے کی جاتی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے الزامات اور افواہیں مہم کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت نے ایسا کیا ہو۔ ماضی میں پلواما واقعے پر بھی یہی طرزِ عمل اپنایا گیا، اور اب وہی حکمتِ عملی دہرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ناکامیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اور ریاستی جبر سے توجہ ہٹانا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا بھارت جان بوجھ کر پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کی توجہ بھارت کے اندرونی خوفناک واقعات سے ہٹائی جا سکے۔انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے بہانے ظالمانہ قوانین متعارف کرا چکا ہے، جو کشمیری عوام کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، اور یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہاہم بھارت میں اسلامو فوبیا، زہر آلود اور اشتعال انگیز قوم پرستی پر مبنی بیانیے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جو بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک آزاد اور غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔”پاکستان کا اس واقعے سے کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی فائدہ۔ جب ہماری معیشت استحکام کی طرف گامزن ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف پیش رفت کر رہے ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ بھارت اچانک ایسی صورتحال کیوں پیدا کر رہا ہے؟”
مزید برآں، انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ معاہدے میں اس قسم کی یکطرفہ کارروائی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اختلافات کو باہمی مذاکرات یا معاہدے کے تحت مہیا کردہ فورمز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ہم الزامات پر نہیں، حقائق پر بات کریں گے:ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح انداز میں کہا کہ   “ہم الزامات پر نہیں، حقائق پر جائیں گے۔ پہلگام واقعہ جس جگہ پیش آیا، وہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے 230 کلومیٹر دور ہے۔ اتنے دشوار گزار راستے کو صرف 10 منٹ میں عبور کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ اگر کوئی تھانے تک جانا چاہے تو بھی کم از کم 30 منٹ درکار ہوتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھارتی میڈیا کے بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے صرف چند منٹ بعد ہی بھارتی میڈیا نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی۔ بھارتی بیانیہ یہ تھا کہ مسلمان حملہ آوروں نے ہندو یاتریوں کو نشانہ بنایا، اس بیانیے کا مقصد واضح طور پر فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے بھی بھارت کے اس بیانیے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اس موقع پر کہابھارت میں قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیے جانے جیسے سنگین واقعات پر ہم جلد تفصیل سے بات کریں گے۔ بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے تصدیق کی کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے پہلگام کے علاقے میں آپریشن کیا، لیکن اس کے شواہد اور نتائج کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔





Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *