
مظفرآباد : نو منتخب وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے حلف کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایک سیاسی ورکر کے کندھوں پر اتنی بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی، اور اللہ نے انہیں اس ذمہ داری کو نبھانے کی طاقت بھی دی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے والد کو ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی ذمہ داریاں دیں، پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے وزرات عظمیٰ کی ذمہ داری دی، اور آج بلاول بھٹو نے ان پر اعتماد کر کے انہیں وزیر اعظم منتخب کیا۔
راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جو لوگ حکومت بنانے میں ان کے ساتھ شامل ہوئے، وہ پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے ہیں اور آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ذمہ داری صرف ان کے اوپر نہیں بلکہ ان سب لوگوں پر بھی ہے جنہوں نے انہیں ووٹ دیا۔
انہوں نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، شہباز شریف اور وزیر اعظم پاکستان کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ جانے والی وزیر اعظم آنے والے وزیر اعظم کو خوش آمدید کہتا ہوا رخصت ہوا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سابق حکومت کی کچھ فیصلے غلط بھی ہوئے اور ایکشن کمیٹی کے معاملات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اب کسی فیصلے میں تاخیر نہیں ہوگی اور عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے گی۔
راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے اثاثوں کی وضاحت بھی کی اور کہا کہ وہ سیاست دان مراعات یافتہ طبقہ نہیں ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گریڈ 18 سے نیچے کے افسر سرکاری گاڑی استعمال نہیں کریں گے، اور سیکرٹریز کے اضافی اسامیان ختم کی جائیں گی۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے تکنیکی اسامیوں کو ضم کرنے، تھرڈ پارٹی بھرتیوں کی شفاف پالیسی، نئی ٹرانسپورٹ پالیسی اور سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے مساوی مواقع فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
مزید برآں، انہوں نے عدالتی اصلاحات، آزاد کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کے معاہدے، ڈرائیور کی اسامیوں کو گریڈ پانچ میں اپ گریڈ کرنے، گریڈ ایک ملازمین کو ایک ماہ اضافی تنخواہ دینے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے حمایت کا بھی اعلان کیا۔
راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور عوام کی خدمت کے لیے پوری کوشش کریں گے۔








