
(ویب ڈیسک ) عدالتی حکم کے بعد یوٹیوبر عادل راجہ نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کو بدنام کرنے کا الزام تسلیم کرلیا۔
جھوٹے الزامات،یوٹیوبر عادل راجہ نے بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر سے معافی مانگ لی۔ عادل راجہ نے کہا کہ لندن ہائیکورٹ نےمجھے راشد نصیر کو 50ہزارپاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، لندن کی عدالت نے مجھ پر قانونی اخراجات بھی عائد کیے۔
عادل راجہ نے کہا کہ 14سے29جون2022تک میں نے متعدد ہتک عزت کے الزامات لگائے، راشد نصیر پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کا میں دفاع نہیں کرسکا، عدالت نے قراردیا میرے راشد نصیر پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے۔
خیال رہے کہ لندن ہائیکورٹ کے جج نے عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔جج نے حکم میں کہا تھا کہ معافی28دن تک عادل راجہ کے ایکس،فیس بک،یوٹیوب،ویب سائٹ پیچ پر موجود ہو،عادل راجہ14دن میں50ہزار پاؤنڈ جرمانہ، اخراجات میں2لاکھ60ہزار پاؤنڈ اداکرے،اضافی عدالتی اخراجات کا تخمینہ بعد میں لگایا جائے گا وہ بھی عادل راجہ کو ادا کرنا ہوں گے۔
یاد رہے کہ عادل راجہ رواں سال اکتوبر میں اپنے خلاف ہونے والا ہتک عزت کا مقدمہ ہارگیا تھا۔جج نے عادل راجہ کو آئندہ ہتک آمیز بیانات نہ دہرانے کا حکم امتناع بھی جاری کردیا۔بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر نے استدعا کی تھی اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے پرآرڈرجاری کیا جائے۔اکتوبر فیصلے میں جج نے عادل راجہ کے بریگیڈیئر(ر)راشد نصیرکیخلاف الزامات کو بے بنیاد قراردیا تھا۔









