کونسے ممالک کی کرنسیاں کمزور؟ پاکستانی روپیہ بھی فہرست میں شامل؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
کونسے ممالک کی کرنسیاں کمزور؟ پاکستانی روپیہ بھی فہرست میں شامل؟
کونسے ممالک کی کرنسیاں کمزور؟ پاکستانی روپیہ بھی فہرست میں شامل؟

ویب ڈیسک:کسی بھی بیرون ملک جانا ہوتو اہم مسئلہ جو پیش آتا ہے وہ وہاں کی کرنسی کا ہے کیونکہ اپنے ملک سے دوسرے ملک کے لئے ملکی کرنسی کو اُس ملک کی کرنسی کے ساتھ ایکسچینج کروانا پڑتا ہے تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جن کی کرنسیاں یورپی ممالک کی کرنسیوں سے کمزور ہیں۔

کئی کرنسیوں کی قیمت مہنگائی، غیر مستحکم معیشت اور سست معاشی ترقی کی وجہ سے کم ہوتی ہے۔ آج کے ایکسچینج ریٹس کی بنیاد پر دنیا کی آٹھ کمزور ترین کرنسیوں اور ان کی کمزوری کی وجوہات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ویتنامی ڈونگ

ویتنامی ڈونگ طویل عرصے سے دنیا کی کمزور ترین کرنسیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ ویتنام کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے، لیکن برآمدات کو بڑھانے کی پالیسیوں کے باعث ڈونگ کی قدر کم رکھی جاتی ہے۔ تھوڑی سی رقم تبدیل کرنے پر بھی مسافروں کو نوٹوں کے بڑے بنڈل مل جاتے ہیں۔ اس کے باوجود رہائش، کھانے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اب بھی مناسب ہیں۔

لبنانی پاؤنڈ 

لبنانی پاؤنڈ کی قدر حالیہ برسوں میں ریکارڈ حد تک گر چکی ہے، جس کی وجہ سیاسی عدم استحکام، شدید مہنگائی اور طویل مالی بحران ہے۔ اس کی خریداری کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے۔ ملک میں آج بھی سرکاری اور مارکیٹ ریٹ میں واضح فرق موجود ہے۔ غیر ملکی کرنسی رکھنے والے مسافروں کو رقم زیادہ محسوس ہوتی ہے، لیکن مقامی افراد کے لیے روزمرہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

ایرانی ریال

ایرانی ریال کئی برسوں سے قدر میں کمی کا شکار ہے۔ اقتصادی پابندیوں، بلند مہنگائی اور عالمی تجارت میں کمی نے اس کرنسی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ مضبوط کرنسی تبدیل کرنے والے مسافروں کو رقم زیادہ لگتی ہے، مگر مقامی شہری بڑھتی قیمتوں اور کم ہوتے حقیقی آمدن سے دوچار ہیں۔

انڈونیشیائی روپیہ

تیزی سے بڑھتی معیشت کا حصہ ہونے کے باوجود انڈونیشیائی روپیہ مسلسل کمزور رہتا ہے۔ اس کی وجوہات میں بلند مہنگائی، درآمدات پر انحصار اور وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی معاشی بے یقینی شامل ہیں۔ ملک کی بڑی آبادی اور ترقی پاتی انفراسٹرکچر بھی مالی دباؤ بڑھاتے ہیں۔ مسافروں کے لیے روزمرہ اخراجات مناسب ہوتے ہیں، لیکن لین دین اکثر بڑے اعداد والے نوٹوں میں ہوتا ہے۔

لاؤشیائی کِپ

لاؤشیائی کِپ کسی بڑی کرنسی کے ساتھ منسلک نہ ہونے کے باعث زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔ ملک کا بھاری قرضہ، کمزور معاشی ترقی اور محدود برآمدات اس کی کمزوری کی اہم وجوہات ہیں۔ لاؤس اپنی خوبصورتی کے باعث مشہور ہے، لیکن کمزور کرنسی کے باعث مسافروں کو روزمرہ خریداری کے لیے بڑے نوٹوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *