
ویب ڈیسک:سابق وزیراعظم پاکستان بینظیر بھٹو کی برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر مملکت آصف زرداری، بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ اس سال کی سب سے بڑی کامیابی جنگ کے میدان میں بھارت کو شکست دینا ہے، لیکن کامیابی گڑھی خدا بخش کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہ ہو پاتی، کیوں کہ بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت اور بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی دی۔
انہوں نے کہاکہ مئی کی جنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا نام سن کر غائب ہو جاتا ہے، جن طیاروں نے بھارتی لڑاکا طیاروں کو گرایا، وہ صدر زرداری نے منگوائے تھے، اس کے علاوہ صدر مملکت نے ملک کو سی پیک کا تحفہ دیا۔
چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ وفاق کے معاشی مسائل ہمارے مسائل ہیں، اور بحیثیت محب وطن پاکستانی میں چاہوں گا کہ وفاق کی پریشانی دور کروں، وفاق کے معاشی مسائل ہمارے مسائل ہیں،اور بحیثیت محب وطن پاکستانی میں چاہوں گا کہ وفاق کی پریشانی دور کروں۔
انہوں نے کہاکہ وفاق صوبوں سے اختیارات لینے کے بجائے مزید ذمہ داریاں دے تاکہ ہم مل کر مسائل حل کر سکیں، ہم مل کر مسائل کا حل نکالیں گے, ہمیں مل کر ملکی مسائل کو حل کرنا ہوگا، تاکہ ہمارے عوام مسائل سے نکل سکیں، صوبے ایف بی آر سے بہتر ٹیکس اکٹھا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میں تو اپنے عوام کو بہت سمجھاتا ہوں کہ ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اس معاشی ترقی کا فائدہ ہمیں کیوں نہیں ہو رہا, وفاقی حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے جان چھڑا کر یہ ذمہ داری صوبوں کے حوالے کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کررہی ہے، اس کے علاوہ ہم لاکھوں عوام کو مفت گھر بنا کر دے رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے پاس ہی وہ منشور ہے جس پر عمل کرکے عوام کو مشکلات سے نکالا جا سکتا ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ سندھ میں صحت کا بہترین نظام ہے جہاں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، اور یہاں 50 فیصد مریض دوسرے صوبوں سے آتے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہماری بات سنتے ہیں، اور ہماری تجویز پر ہی انہوں نے ملک میں زرعی ایمرجنسی کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے مفاہمت ناگزیر ہے، اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاست کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔









