ایس ایم تنویر کا برآمدات کے بجائے ترسیلاتِ زر پر انحصار پر اظہارِ تشویش

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
ایس ایم تنویر کا برآمدات کے بجائے ترسیلاتِ زر پر انحصار پر اظہارِ تشویش
ایس ایم تنویر کا برآمدات کے بجائے ترسیلاتِ زر پر انحصار پر اظہارِ تشویش



لاہور: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے رہنما ایس۔ ایم۔ تنویر نے پاکستان کی معیشت میں برآمدات کے بجائے ترسیلاتِ زر اور قرضوں پر مبنی کھپت پر بڑھتے ہوئے انحصار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے پائیدار معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت تقریباً 60 ارب ڈالر کی ممکنہ برآمدات کے خسارے کا سامنا ہے، جو ملک کے تجارتی اور صنعتی ڈھانچے میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایس۔ ایم۔ تنویر  کا کہنا ہے کہ  پاکستان میں برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ 1990 کی دہائی میں 16 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر 10.4 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ ویتنام میں برآمدات کا جی ڈی پی میں تناسب تقریباً 95 فیصد، بنگلہ دیش میں 20 فیصد جبکہ تھائی لینڈ میں 60 فیصد کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا جن ممالک کو ہم کبھی کم تر سمجھتے تھے، وہ آج برآمدات کو ترجیح دے کر ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے پیداواری لاگت میں اضافہ، محدود منڈیوں تک رسائی، کم پیداواری صلاحیت، کمزور لاجسٹکس، اور ناکافی انفراسٹرکچر کو پاکستان کی برآمدات میں رکاوٹ بننے والے اہم عوامل قرار دیا۔
ایس۔ ایم۔ تنویر کا کہنا تھاپاکستان کی برآمدات کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اور ملک کی اصل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔ ہمیں مارکیٹ پر مبنی ایکسچینج ریٹ اپنانا ہوگا، تجارتی فنانسنگ کو مضبوط بنانا ہوگا، لاجسٹکس اور تعمیل کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا، اور تجارتی معاہدوں کو مؤثر بنانا ہوگا تاکہ ہماری برآمدات مسابقتی بن سکیں۔
انہوں نے برآمدات کے فروغ اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ ہمیں ایک کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا ہوگا، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی، اور برآمدات سے وابستہ شعبوں میں جدت اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ہوگا،” انہوں نے مزید کہا۔ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری اور عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔





Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *