
(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سربراہی میں صوبائی کابینہ نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025منظور کرلیاگیا۔
تفصیلات کے مطابق سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی۔ سیکرٹری مائینز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے بتایا کہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی شق 49 کے تحت تیل، گیس اور تابکار معدنیات کے سوا تمام معدنیات، خواہ وہ سرکاری زمین میں ہوں یا نجی زمین میں، صوبائی حکومتوں کی ملکیت ہوتی ہیں، ریگولیشن آف مائنز اینڈ آئل فیلڈز اینڈ منرل ڈیولپمنٹ ایکٹ 1948 کی شق 2 کے تحت صوبائی حکومتیں معدنی وسائل کی الاٹمنٹ اور ان کے ضابطہ کار کے لیے قواعد بنانے کی مجاز ہیں۔
سیکرٹری مائینز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے کہا کہ ان اختیارات کے تحت حکومت پنجاب نے پنجاب مائننگ کنسیشن رولز 2002 نافذ کیے،جن کے ذریعے صوبے میں معدنی وسائل کی تلاش، الاٹمنٹ اور رائلٹی کی وصولی کا نظام چلایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت کی وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے ملک بھر میں معدنی شعبے سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کو ہم آہنگ بنانے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھایا۔
وفاقی حکومت کے اقدامات کا مقصد عالمی سطح پر رائج بہترین طریقۂ کار کے مطابق پاکستان کے معدنی شعبے کو جدید بنانا اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس مقصد کے لیے دو بین الاقوامی کنسلٹنسی اداروں وائٹ اینڈ کیس اور ووڈ میک کینزی کی خدمات حاصل کیں۔
مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا تیسرا مسودہ تیار کیا گیا، جو وزارتِ توانائی کی جانب سے پنجاب سمیت تمام صوبوں کو رائے اور تجاویز کے لیے ارسال کیا گیا۔ پنجاب حکومت نے اس مسودے کو محکمہ جنگلات و جنگلی حیات، ماہی پروری، محکمہ ماحولیات، ای پی اے اور بلدیات کو بھجوایا۔
تمام محکموں کی آراء اور تجاویز کومرتب کر کے وزارتِ توانائی کو ارسال کیا گیا۔متعدد مشاورتی اجلاسوں کے بعد مسودے میں مزید بہتری لائی گئی ۔ صوبائی ضروریات، سرمایہ کاروں کی سہولت اور ریونیو میں اضافے کے اہداف کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔
18 ستمبر 2025 کو کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی و نجکاری کے 23ویں اجلاس میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے مسودہ بل کی منظوری دی گئی اور اسے صوبائی کابینہ کو پیش کرنے کی سفارش کی گئی۔
مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے نفاذ سے پنجاب میں معدنی شعبے کا قانونی و ریگولیٹری نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا۔سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور صوبے کی آمدن میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔









