ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں صفر اعشاریہ 14 فیصد کمی ہوئی ہے یوں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 43.79 فیصد ہوگئی۔
ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے میں 15 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 13 کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 23 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ادارہ شماریات کے مطابق چکن 3.31 فیصد، گڑ 1 فیصد مہنگا، چائے0.92 فیصد، دال مونگ 0.80 فیصد، انڈے 0.43 فیصد مہنگے ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹماٹر کی قیمت میں 14.14 فیصد، آلو 5 فیصد، پیاز 1.64 فیصد اور چائے کی پتی 1.2 فیصد سستی ہوئی۔
چاول، پاوڈر ملک، دہی اور نمک سمیت 23 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 15 روپے اضافہ ہوا، قیمت 460 روپے سے تجاوز کرگئی، دال مونگ کی فی کلو قیمت 2 روپے 42 پیسے اضافے سے 307 روپے ہوگئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں دال ماش 2 روپے مہنگی ہو کر 547 روپے فی کلو ہوگئی، انڈے 2 روپے مہنگے ہو کر 427 روپے فی درجن ہوگئے۔
ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 10 روپے تک مہنگا ہوا، 20 کلو آٹے کا تھیلا 5 روپے مہنگا ہوکر 2 ہزار 817 روپے کا ہوگیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق مٹن، بیف، تازہ دودھ، گڑ، ٹوٹا باسمتی چاول، جلانے کی لکڑی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔
ایک ہفتے میں ٹماٹر 22 روپے کی کمی کے ساتھ 133 روپے کلو، پیاز 4 روپے 25 پیسے کی کمی کے بعد 225 روپے کلو اور آلو 3 روپے کی کمی کے ساتھ 55 روپے فی کلو ہو گئے۔
آلو، چائے کی پتی، دال مسور، گھی، خوردنی تیل اور چینی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔









