
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اہم اجلاس میں افغانستان اور ایران سمیت خطے کی سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اتوار کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرِصدارت علاقائی اور ملکی سیکیورٹی صورت حال پر جائزے کے لیے اعلی سطح اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزرا، اعلی عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک بھرمیں امن وامان کی صورت حال اور پاکستان کی مغربی سرحد پرافغان طالبان کی جانب سے جاری جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے پاک افواج اورفضائیہ کی جانب سے فتنہ الخوارج کی سرکوبی کے لیے مؤثر اور جامع کارروائیوں کی تعریف کی جب کہ شرکا نے پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور وقار کی ہر قیمت پر حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران خارجہ پالیسی اورقومی سلامتی کے حوالے سے مشاورت کی گئی جب کہ اجلاس میں افغانستان کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو ملک کی داخلی صورت حال اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی جب کہ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کوممکن بنایا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا دو روزہ دورہ روس مؤخر کر دیا ہے۔
ذرائع وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف کو پیر (2 مارچ) سے روس کے دو روزہ سرکاری دورے پر ماسکو روانہ ہونا تھا تاہم موجودہ کشیدہ حالات اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث اس دورے کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے روسی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر انتہائی افسوس ہے، حکومت پاکستان اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ برابر کی شریک ہیں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر حکومت اور عوام کی جانب سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمہ اصول ہےکہ سربراہان مملکت اور حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے مزید کہا اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کو اس ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔
واضح رہے کہ ایران کے میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کردی جب کہ سپریم لیڈر کی شہادت پر ایرانی حکومت نے 40 روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔









