
اسلام آباد : زمین سے محبت کے عالمی دن ارتھ آور کے موقع پر پاکستان بھر میں سرکاری عمارتوں کی غیر ضروری لائٹس کو ایک گھنٹے کے لیے بند کر دیا گیا۔
وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک اس اقدام پر عمل کیا گیا۔ اس دوران شاہراہ دستور اور ریڈ زون مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب گئے، جبکہ تمام سرکاری عمارتوں میں غیر ضروری روشنیاں بند کر دی گئیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس، سینٹ، ایوان صدر، سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کی غیر ضروری لائٹس بھی بند کی گئیں۔ راولپنڈی سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سرکاری دفاتر کی لائٹس بھی ایک گھنٹے کے لیے بند رہیں۔
لاہور میں بھی مرکزی شاہراہوں اور سرکاری عمارتوں کی لائٹس بند کی گئیں۔ ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق صوبے کے 500 سے زائد مقامات پر اس دوران روشنیوں کا سلسلہ معطل رہا، جس میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بھی شامل تھے۔
نمایاں شہروں کی مرکزی سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس، نجی عمارتیں اور مری کے ایمفی تھیٹر میں روشنیاں بند کر کے شمعیں روشن کی گئیں۔
اسی طرح بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی ورلڈ ارتھ ڈے کے موقع پر ایک گھنٹے کے لیے روشنیوں کو بند کیا گیا۔









