
کراچی : گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے “سندھ فشریز (ترمیمی) بل 2026ء” کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے میں ماہی گیری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے نئے قوانین فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔نئے ترمیمی بل کے تحت ماہی گیری کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جرمانوں کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ماہی گیری کے قوانین کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر اب ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
ممنوعہ جالوں کے استعمال اور غیر قانونی شکار پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ بغیر لائسنس ماہی گیری کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کوئی بھی فش پروسیسنگ پلانٹ یا فیکٹری بغیر لائسنس چلانے کی صورت میں 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔
ترمیمی بل میں پہلی بار ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے سخت شروط شامل کی گئی ہیں۔ فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ سمندر یا کھلے پانی میں چھوڑنے اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کو جرم قرار دے دیا گیا ہے، جس پر بھاری جرمانے ہوں گے۔ غیر قانونی طریقے سے شکار کی گئی مچھلی کی خرید و فروخت اور تجارت کرنے والوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد سندھ کی ساحلی پٹی پر سمندری حیات کی نسل کشی کو روکنا اور ماہی گیری کی صنعت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔









