لاہور کی فلم انڈسٹری مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام
لاہور(حسن عباس زیدی)سنیما انڈسٹری کے عدم تعاون کی وجہ سے لاہور کی فلم انڈسٹری مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہے ۔سنیما اونرز لاہور میں بنائی جانے والی فلموں کو شوز دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذوالفقار مانا نے ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سنیما مالکان ہمارے ساتھ تعاون کریں تو ہم فوری طور پر فلمیں بنانا شروع کردیں ۔لاہور کی فلم انڈسٹری کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فلمیں بنیں۔دوسری جانب سنیما مالکان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سنیما انڈسٹری کے لئے گزشتہ سال فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی ریلیز کی وجہ سے کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن 2023 میں جتنی بھی فلمیں ریلیز کی گئیں ان میں کوئی ایک فلم بھی اس طرح کامیاب نہ ہو سکی۔گزشتہ سال ملک بھر میں لگ بھگ 24 پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئیں جس میں زیادہ تر اردو زبان میں تھیں۔ تاہم بزنس کے لحاظ سے کوئی بھی فلم ریکارڈ کارکردگی نہ دکھا سکی۔سنیما مالکان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ چھوٹے بجٹ کی غیر معیاری فلمیں ریلیز کرکے اپنے کاروبار کو مکمل طور پر بند نہیں کرسکتے سنیما انڈسٹری سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے ۔اگر ہم لوگ غیر ملکی فلموں کی نمائش نہ کریں تو کیا کریں ہم بھی مجبور ہیں سنیما انڈسٹری سے وابستہ لوگوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔اس لئے ہم کوئی ایسی فلم ریلیز نہیں کرسکتے جس کو دیکھنے والا ہی کوئی نہ ہو۔سنیما مالکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر ملکی فلموں کی نمائش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اتنی کم فلمیں بن رہی ہیں کہ وہ ہماری ڈیمانڈ کو پورا نہیں کرسکتیں۔دوسری جانب پاکستانی فلموں کی ناکامی کی بڑی وجہ بیک وقت متعدد فلموں کا ریلیز ہونا ہے۔ گزشتہ سال عید الفطر کے موقع پر چار فلمیں ریلیز ہوئیں جب کہ عید الاضحٰی پر چھ فلمیں سنیما گھروں کی زینت بنیں۔2023ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ‘ہوئے تم اجنبی’ میں سقوطِ ڈھاکہ کو پسِ منظر میں ڈال کر ایکشن رومینٹک فلم بنانے کا تجربہ فیل ہوا جب کہ سٹار کاسٹ سے بھری فلم ‘منی بیک گارنٹی’ بھی شائقین کو سنیما کی جانب کھینچ کر لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔دونوں فلموں کی ناکامی کی وجہ ناتجربہ کار ہدایت کار، غیر معیاری پروڈکشن اور بے ربط کہانی تھی۔اس کے علاوہ ریلیز ہونے والی فلموں میں دوڑ، دادل، تیری میری کہانیاں، وی آئی پی، مداری اور آر پار شامل ہیں جن کا بزنس توقعات کے برعکس رہا۔تیری میری کہانیاں’ کو ایک اینتھولوجی فلم بنایا کر پیش کیا گیا تھا جس میں ندیم بیگ، مرینہ خان اور نبیل قریشی نے ایک ایک شارٹ فلم ڈائریکٹ کی لیکن ان کی مشترکہ کاوش بھی زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔
کم بجٹ میں بننے والی فلم بے ‘بی لشس’ کی ٹارگٹ مارکیٹ نوجوان تھے جب کہ ‘مداری’ کو حقیقت سے قریب فلم بنا کر پیش کیا گیا لیکن بزنس دونوں کا ہی کم رہا۔فلم ‘جون’ اور ‘گنجل’ کا بزنس ان کی ریلیز ڈیٹ کی وجہ سے متاثر ہوا۔
سلیم معراج اور عاشر وجاہت کی فلم جون کا باکس آفس پر ٹام کروز کی فلم ‘مشن امپاسبل ڈیڈ ریکننگ پارٹ ون’ سے مقابلہ تھا جب کہ ‘گنجل’ سے ایک ہفتہ قبل ‘ڈھائی چال’ اور ایک ہفتے بعد ‘چکڑ’ نمائش کےلئے پیش ہوئیں۔گزشتہ سال ابو علیحہ کی فلم ‘ککڑی’ بھی سنسر سے پاس ہونے کے بعد سنیما کی زینت بنی۔ فلم میں اداکار یاسر حسین نے سیریل کلر جاوید اقبال کا کردار نبھایا تھا اور اسے عالمی سطح پر متعدد ایوارڈز ملے لیکن اہم سین کٹ جانے کے باعث یہ شائقین کو متاثر نہ کرسکی۔پاکستان میں باکس آفس پر سب سے زیادہ کامیاب فلمیں بنانے والے ہدایت کار ندیم بیگ کےلئے بھی 2023 خاموشی سے گزر گیا۔ انہوں نے فلم ‘تیری میری کہانیاں’ میں ایک کہانی کی ہدایات تو دیں لیکن اس فلم کو ان کی ہٹ فلمیں جوانی پھر نہیں آنی ون اور ٹو، لندن نہیں جاو_¿ں گا اور پنجاب نہیں جاو_¿ں گی جیسی کامیابی نہ مل سکی۔ ندیم بیگ نے کہا کہ بڑے بجٹ کی فلم نہ بنانے کے پیچھے سنیما کی موجودہ حالت ہے۔ان کے خیال میں ہالی وڈ اور بالی وڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی کمرشل فلموں کا منظرنامہ بدل رہا ہے اور اب لوگوں کو فلم دکھانے کےلئے گھروں سے نکالنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ندیم بیگ کا کہنا ہے کہ سنیما کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کےلئے ضروری ہے کہ ہر طرح کی فلمیں بالخصوص کمرشل فلمیں بنائی جائیں کیوں کہ فلموں کا مسلسل بننا اور ریلیز ہونا ہی شائقین کو واپس سنیما لاسکتا ہے۔کوئی فلم لکھنے والا نہیں، ٹی وی زیادہ مقبول ہو گیا ہے ۔فلم ڈسٹری بیوٹر اور ایٹریم سنیما کے مالک ندیم مانڈوی والا کے خیال میں پاکستان کی سنیما انڈسٹری ابھی تک بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی کے فیصلے سے ریکور نہیں کرسکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنیما انڈسٹری کو نقصان کم فلموں کی پروڈکشن سے ہو رہا ہے۔ بھارتی فلموں کی ریلیز کے وقت انڈسٹری کو یہ مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ان کے بقول “فروری 2019 میں جب پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگی تو اس سے پاکستان میں سنیما انڈسٹری کی ترقی کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا۔ جہاں سنیما میں ایک سال میں 100 سے زائد فلمیں لگتی تھیں وہاں 40 سے 50 فی صد کمی سے سنیما کو نقصان ہوا ہے۔ندیم مانڈوی والا کے مطابق حکومت سنیما انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے تو اس کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں یا تو وہ بھارتی فلموں پر پابندی کے فیصلے پر نظرِثانی کرے یا 100 مقامی فلموں کی ریلیز یقینی بنائے۔انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت نے سنیما انڈسٹری کی جانب توجہ نہیں دی تو بہت سارے سنیما گھروں کے بزنس ختم ہو جائیں گے کیوں کہ موجودہ حالات میں سنیما چلانے کی لاگت زیادہ ہے جب کہ منافع کم ہے۔ فلمی نقاد مہوش اعجاز کے خیال میں پاکستان میں ناظرین کے ساتھ ساتھ فلم میکرز بھی سنیما پر ٹی وی ڈراموں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مہوش اعجاز نے کہا کہ لگتا ہے کہ پاکستان میں کہانی لکھنے والوں اور ہدایت کاروں کے پاس فلم بنانے کی کوئی وجہ ہی نہیں رہی جس کے بعد اب وہ ٹی وی کا رخ کر رہے ہیں کیوں کہ ٹی وی پر کام نظر بھی آتا ہے اور اس کا ریٹرن بھی ملتا ہے۔ان کے بقول “پاکستان اب فلم دیکھنے سے زیادہ ٹی وی دیکھنے والا ملک بن گیا ہے۔ جن لوگوں کو فلمیں بنانا چاہیے وہ رسک فیکٹر کی وجہ سے فلمیں نہیں بنارہے ہیں۔سال 2024 کے لئے صرف چند ہی پاکستانی فلموں کا اعلان ہوا ہے۔ جنوری میں ہدایت کارہ ارم پروین بلال کی فلم ‘وکھری’ اور ہدایت کار ابو علیحہ کی ‘ٹیکسالی گیٹ’ سمیت ہدایت کار عمیر ناصر علی کی فلم ‘نایاب’ ریلیز ہوں گی جن سے شائقین کو امیدیں وابستہ ہیں۔









