
اسلام آباد :بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گرین انرجی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو حاصل تمام ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس کے باعث ملک میں سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ کاروں پر ٹیکسوں کی بھرمار اور قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق ہائبرڈ گاڑیوں پر عائد ٹیکس کو 8 فیصد سے یکمشت بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ عوام میں مقبول سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) کو 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ آئی ایم ایف کے اس سخت موقف کے بعد الیکٹرک کاریں، بائیکس، رکشے اور بسیں بھی مزید مہنگی ہونے کی زد میں آ گئی ہیں، جبکہ الیکٹرک پک اپ، ٹریکٹرز اور ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس بڑھانے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔
دوسری جانب، آئی ایم ایف کی ان سخت ترین شرائط اور ممکنہ ٹیکسوں پر تاجر اور صنعتی برادری شدید تشویش کا شکار ہے۔ ملک بھر کے صنعتکاروں نے حکومت سے ہنگامی اپیل کی ہے کہ بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات کے پیشِ نظر بجلی، گیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں کی شرح میں فوری کمی کی جائے، ورنہ ملکی صنعت کا چلنا ناممکن ہو جائے گا۔









