عالمی میڈیا میں پاکستان کی پزیرائی اور بھارت کی جگ ہنسائی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
عالمی میڈیا میں پاکستان کی پزیرائی اور بھارت کی جگ ہنسائی
عالمی میڈیا میں پاکستان کی پزیرائی اور بھارت کی جگ ہنسائی

(ویب ڈیسک) بھارت نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد نہ صرف دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے بلکہ نئی دہلی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش بھی شروع کر دی۔ تاہم اب پہلگام حملے کے ایک برس مکمل ہونے پر بالخصوص ایران اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات میں بحیثیت ثالث   پاکستان سفارتی سطح پر ایک پاپولر پلیئر بن کر ابھرا ہے۔

جرمن میڈیا  کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پہلگام حملے کے بعد   بھارت نے پاکستان پر الزام عائد  کیا تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات میں تعاون  کی پیشکش کی۔

اس واقعے کے بعد نہ صرف دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے بلکہ نئی دہلی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش بھی شروع کر دی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ   بھارتی وزیر اعظم مودی نے پاکستان کے خلاف ایک عالمی سفارتی مہم شروع کی۔ بھارت نے 50 سے زائد سیاست دانوں کو 32 ممالک میں بھیجا تاکہ بھارت کی حمایت حاصل کی جا سکے  اور پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جا سکے۔

ڈائریکٹر جنوبی ایشیا پروگرام ، اسٹمس سینٹر ایلزبتھ تھرل کڈ نے کہا کہ   پاکستان نے بھی اسی نوعیت کا جواب دیا اور اپنا وفد دنیا بھر میں بھیجا اور دونوں فریقوں نے عالمی سطح پر اپنا موقف رکھنے کی کوشش کی۔اس کا مقصد اندرون ملک عوامی تاثر کو متاثر کرنا تھا نہ کہ کسی ٹھوس عملی نتیجے کا حصول۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دوسری طرف پاکستان نے اپنی سفارتی حکمت عملی کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قرب حاصل کرنے کی کوشش کی، جو کامیاب بھی ثابت ہوئی۔

ایلزبتھ تھرل کڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بڑے موثر انداز میں یہ سمجھ لیا کہ امریکی انتظامیہ کی چاہتی ہے اور اس نے سول اور عسکری دونوں سطحوں پر صدر ٹرمپ کی انتظامیہ  سے بظاہر ایک قریبی ذاتی تعلق استوار کرلیا ہے۔آخر کار سفارت کاری کا دارومدار تعلقات پر ہی ہوتا ہے۔

رپورٹ  میں کہا گیا کہ پاکستان امریکا کے  ایک “سفارتی محبوب” کے طور پر سامنے آیا ہے۔اہم عالمی مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہےاورامریکا و ایران دونوں کی جانب سے تعریف سمیٹ رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنوبی ایشیا پروگرام ، اسٹمس سینٹر ایلزبتھ تھرل کڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تہران اور ریاض کے ساتھ تو اچھے تعلقات تھے ہی لیکن اس نے واشنگٹن کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو ازسر نو ترتیب دیا اوراسلام آباد بیجنگ کے قریب بھی ہے۔اس لیے وہ فطری طور پر ایک موزوں پلیئر بن گیا۔لیکن پاکستان نے  ان روابط کو بامعنی بنانے کیلئے بہت محنت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اس مکالمے کو کامیابی سے منعقد کرنے اور اس تنازعے کے خاتمے میں  سہولت فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ، جس نے بھارت کی کوکنگ گیس، کھاد اور دیگر روز مرہ ضروریات تک رسائی کو محدود کیا ہے۔تو اس سے نہ صرف بھارت بلکہ مجموعی طور پر پوری دنیا کو بھی  فائدہ ہوگا۔

Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *