نئی حکمتِ عملی؛ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مکالمے کا منظم فریم ورک تیار

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp
نئی حکمتِ عملی؛ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مکالمے کا منظم فریم ورک تیار
نئی حکمتِ عملی؛ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مکالمے کا منظم فریم ورک تیار



اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست ملاقات کے بجائے اب ‘بالواسطہ مذاکرات’ (Indirect Talks) کا راستہ اختیار کیا ہے، جس میں پاکستان ایک مرکزی پل اور کلیدی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے۔
ذرائع کے مطابق براہِ راست مذاکرات کے خلاف ایران میں داخلی ردِعمل کے بعد فارمیٹ تبدیل کیا گیا ہے، تاہم مکالمے کا عمل تعطل کا شکار نہیں ہوا۔بالواسطہ مذاکرات ایرانی قیادت کو داخلی دباؤ سے بچاتے ہوئے بات چیت جاری رکھنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ براہِ راست رابطوں کی عدم موجودگی سفارت کاری کی ناکامی نہیں بلکہ ایک منظم قدم ہے، کیونکہ تاریخ میں کئی پیچیدہ تنازعات بالواسطہ رابطوں سے ہی حل ہوئے ہیں۔پاکستان کی تجویز پر بات چیت اب ثالثوں کے ذریعے جاری ہے، جس میں عمان اور روس بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ایک طرف ماہرین کی سطح پر تکنیکی بات چیت جاری ہے تو دوسری طرف ثالثوں کے ذریعے سیاسی پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں۔
پاکستان خود کو ایک غیر جانبدار پل کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو مکالمے کو ممکن بنا کر خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔
سفارتی حلقوں نے ان خبروں کو گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں کہا گیا کہ سفارت کاری تعطل کا شکار ہے۔ مذاکرات فعال اور مرحلہ وار آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کا موقف جانچنے اور اعتماد سازی کا موقع مل رہا ہے۔یہ منظم فریم ورک براہِ راست مذاکرات سے قبل زمین ہموار کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاکہ کسی بھی بڑے معاہدے سے پہلے تمام تکنیکی پیچیدگیوں کو حل کیا جا سکے۔
پاکستان کی اس کامیاب سہولت کاری نے اسے عالمی سطح پر ایک معتبر مصالحت کار کے طور پر ثابت کیا ہے، جو نہ صرف امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے بلکہ دنیا کو ایک بڑے بحران سے نکالنے میں بھی مدد دے رہا ہے۔





Source link

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *